جہلم: پولیس کا تھانہ کلچر کی تبدیلی اور فری رجسٹریشن آف ایف آئی آر کے دعوے صرف دعوؤں تک ہی محدود ہیں۔
گزشتہ اور رواں سال وارداتوں کو چھپانے اور سب اچھا کی رپورٹ دینے کیلئے 50 فیصد سے زائد درخواستوں پر مقدمات ہی درج نہیں ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سینکڑوں درخواستوں پر کارروائی ہی نہیں کی گئی ، کالز اور درخواستوں کے باوجود جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں ڈکیتی کی وارداتیں جبکہ درجنوں رابری اور موٹر سائیکل چوری کے مقدمات در ج ہی نہیں کئے گئے ۔ پولیس متاثرین کے مقدمات درج کرنے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن رہی۔
انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے رواں سال کے 9 ماہ کے دوران پنجاب بھر میں 1لاکھ 6 ہزار زیر التوا درخواستوں پر مقدمات درج کروائے۔
آئی جی پنجاب کی واضح ہدایات کے باوجود رواں سال بھی آئی جی شکایات سیل میں مقدمات کے عدم اندراج 50 ہزار کے قریب پنجاب بھر سے شکایات موصول ہوئیں جبکہ تھانوں میں بروقت مقدمات کے اندراج نہ ہونے پر شہریوں کی شکایات پر 17 ہزار سے زائد مقدمات آئی جی آفس کے شکایات سیل کی مداخلت کے بعد درج کئے گئے۔
شہریوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی درخواست پر ایف آئی آر کا اندراج ہونا چاہئے تاکہ جرائم میں خاتمہ ممکن ہو سکے۔


