جہلم: نئے ٹیکسز نے خواتین کا سجنا سنورنا بھی مشکل بنا دیا،میک اپ کا سامان ضرو رسستا ہونا چاہئے ، غیر معیاری میک اپ سے سکن خراب،امپورٹڈ کا سمیٹکس پر بھاری ٹیکس ظلم و زیادتی کے مترادف ہے ، ارباب اختیار نظر ثانی کریں۔
تفصیلات کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں جہاں ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں وہیں پر بناؤ سنگھار سے ہر خاتون کی دلی خواہش پوری ہونے سے قاصر ہے ، جس کی بڑی وجہ درآمدی سامان زیبائش پر نئے ٹیکسوں نے خواتین کے بناؤ سنگھار میں بڑی مشکل پیدا کر دی۔ امپورٹڈ ، سکن کیر کریمز ، فیس اور ہینڈ واش ہوں یا پر فیومز، میک اپ کیلئے لازم ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔
بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ سامان پر بھاری ٹیکس بڑا ظلم ہے۔ ارباب اختیار از راہ کرم ٹیکسوں کو واپس لیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ جو باہر سے چیزیں امپورٹ ہو رہی ہیں ان پر بہت ٹیکس لگا یا گیا ہے، ہم لوگ بالکل افورڈ نہیں کر سکتے ، اب ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کون سی چیز لیں ، کون سی چیز چھوڑیں۔
بجٹ میں نئے ٹیکسوں سے یوں تو ضرورت کی بہت سی چیزیں مہنگی ہوئی ہیں، مگر خواتین چاہتی ہیں اور کچھ سستا ہو نہ ہو ، میک اپ کا سامان ضرور سستا ہونا چاہیئے۔ بازار وں میں نقلی اور غیر معیاری میک اپ کے سامان سے جلدی امراض پھیل رہے ہیں۔


