ایلیٹ پولیس فورس کے ساتھ میرا رشتہ تقریباً 22 سال پرانا ہے جب سال 2002 میں بطور ایس ایچ او تھانہ ڈھڈیال تعینات تھا اور مجھے محکمہ کی طرف سے بیسک ایلیٹ کورس نمبر 6کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ کورس پاس کرنے کے بعد میں چکوال اور راولپنڈی میں تین سال تک بطور انچارج فرائض سر انجام دیتا رہا اور کافی عرصہ فیلڈ میں گزارنے کے بعد 2017 میں پروموشن کورس کرنے کے بعد میں دوبارہ ایلیٹ فورس میں آگیا اور تقریباً تین سال تک بطور انچارج ڈسٹرکٹ ایلیٹ گروپ چکوال تعینات رہا۔
اتنا لمبا عرصہ فیلڈ میں گزارنے کے بعد جب میں واپس آیا تو ایلیٹ فورس میں کافی سارے نئے چہرے آگئے تھے اور پرانے لوگ زیادہ تر عمر کی حد پوری کر کے واپس ضلع پولیس میں جا چکے تھے تو وہاں پر میری ملاقات ایک جوان سے ہوئی جو بظاہر شرمیلہ، لیکن ہنس مکھ، طبیعت میں شغل اور مذاق لیکن اپنے پروفیشن میں انتہائی سنجیدہ، دلیر اتنا کہ جس طوفان سے مرضی ہے لڑا دو، گرم زمین پر قدم رکھنے کی باری آئے تو سب سے آگے، ہر وقت دستیاب ہر دم تیار سید طاہر رضا شاہ
ابتدائی دنوں میں ایک دو آپریشنز میں طاہر شاہ کی کارکردگی دیکھنے کے بعد مجھے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اندازہ ہو گیا تھا۔ طاہر شاہ نہ صرف اچھا آپریشنل جوان تھا بلکہ ایک اچھا ٹرینر بھی تھا۔ جب بھی کوئی کورس پولیس لائن کے اندر چلایا جاتا تو طاہر شاہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھی اور اس سے بہت اچھے نتائج حاصل کیے جاتے رہے۔ بطور استاد طاہر شاہ بہت سخت اور سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے ہمیں ضلع پولیس سے زیادہ وزن والے جوان نکال کر دیے اور ٹاسک دیا کہ ان کا بی ایم آئی نارمل لیول تک لے کر آنا ہے جو طاہر شاہ نے انتہائی محنت سے مقررہ وقت میں ان جوانوں کو فٹنس کے اس لیول تک پہنچایا۔
کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ دلیر مارے جاتے ہیں۔ باوا طاہر شاہ کی دلیری میں کوئی شک ہی نہیں تھا، یہ اس کی دلیری ہی تھی کہ مجرمان کی سنگینی کا اندازہ ہونے کے باوجود اس نے چھت پر انٹری کی اور کلاشنکوف کے ایک پورے برسٹ کا نشانہ بن گیا۔ دنیا فانی ہے ہر کسی نے اپنے مقررہ وقت پر چلے جانا ہے، وجہ موت ایک بہانہ ہوتا ہے، کوئی بیمار ہو کر اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے۔ طاہر شاہ کو نصیب ہونے والی موت ایک قابل فخر موت ہے۔
جس وقت بھی کوئی پولیس والا یا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کا جوان شہید ہوتا ہے تو عام لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ جان دینے والا اپنی جان تو دے گیا لیکن معاشرے کو کتنے بڑے نقصان سے بچا گیا۔ اس آپریشن میں جو سنگین نوعیت کے ملزمان اور کرائے کے قاتل مارے گئے وہ کچھ مضموم مقاصد لے کر یہاں پر چھپے ہوئے تھے اور آنے والے وقت میں ضلع چکوال کے لیے بہت زیادہ بد امنی کا باعث بن سکتے تھے لیکن اگر دوسرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو طاہر شاہ کو کھونے کا نقصان ان دو مجرمان کے مارے جانے سے پھر بھی زیادہ ہے۔ تجمل کلیم کا ایک پنجابی شعر ہے ۔
میں نچیاں جگ دے سکھ پاروں
سد بلھے نوں میری دھمال ویکھے
میری دعا ہے کہ اللہ تعالی طاہر شاہ کی قربانی کو قبول فرمائے اور صدقہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے درجات کو بلندی عطاء فرمائے اور اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبر اور حوصلہ دے اور مالک کا عطا کردہ یہ دکھ ان کے لیے ذریعہ نجات ہو کیونکہ اہل ایمان ایسے نقصانات کو یہی کہہ کر قبول کرتے ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
تحریر: راجہ ظفر شکیل
ڈی ایس پی پولیس ٹریننگ سکول راولپنڈی


