جہلم: چوہدری فرخ الطاف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کو خطے کے امن، استحکام اور مسلم دنیا کے باہمی اتحاد کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس پیش رفت کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی، سیکیورٹی اور تزویراتی تعاون میں اضافہ نہ صرف باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ باہمی تعاون کے ذریعے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مسلم ممالک کو درپیش مختلف چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
چوہدری فرخ الطاف نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، تربیت، تحقیق، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا، جس سے تینوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، دوستی اور تعاون کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ دفاعی اور تزویراتی تعاون میں مزید اضافہ ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔
چوہدری فرخ الطاف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت، شجاعت، قربانیوں اور دفاعی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی برادر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس دفاعی تعاون کو تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مؤثر ثابت ہوگا۔


