جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے منصوبہ سیاست کی نذر ہو گیا۔ کئی سال گزرنے کے باوجود سڑک کی تعمیر مکمل نہ ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سابق دور حکومت میں 16 ارب روپے کی لاگت سے 128 کلومیٹر لمبی سڑک کا منصوبہ شروع کیا گیا، اور یکمشت سڑک کو اکھیڑ دیا گیا۔ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد پی ڈی ایم حکومت نے سڑک کے فنڈز روک دیے، جس کے باعث یہ منصوبہ سیاست کی نظر ہو گیا۔
واحد رابطہ سڑک کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگی، بارش کے موسم میں کشتی پر بھی سفر ممکن نہ رہا، اور آئے روز حادثات معمول بن گئے، جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ سڑک کی خستہ حالی نے تحصیل پنڈدادنخان کے شہریوں کی زندگیاں بری طرح متاثر کیں، اور کاروباری حالات بدتر ہو گئے۔
سونے پر سہاگا، مقامی انتظامیہ کی نااہلی اور سابق کونسلرز کی مبینہ غفلت نے شہریوں پر پروفیشنل ٹیکس سمیت دیگر بھاری ٹیکس نافذ کر دیے۔ صحت اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی کمی اور رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مقامی افراد پنڈدادنخان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
قصہ مختصر، دوسرے اضلاع کے لوگ یہاں رشتہ کرنے سے انکار کرنے لگے۔ سڑک کی تعمیر میں تاخیر اور فنڈز کا اجراء نہ ہونے کے خلاف شہری سڑکوں پر آگئے۔ انجمن تاجران، ورکنگ کمیٹی، صحافی برادری سمیت مختلف تنظیموں نے روڈ بلاک اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے ذریعے بھرپور احتجاج کیا، لیکن حکومت وقت اور سیاستدانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سیاستدانوں کی طرف سے شہریوں کو روز لالی پاپ دئیے گئے۔
2024 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن کے دو درجن سے زائد امیدواروں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے منظر عام پر آئے اور سڑک کی تعمیر کے بلند و بانگ نعرے لگانے کے ساتھ ایک دوسرے پر سڑک کے فنڈز روکنے کے الزامات بھی لگائے۔ الیکشن مہم کے دوران سابق ایم این اے راجہ مطلوب مہدی اور سابق ایم پی اے حاجی ناصر للِہ نے 50 کروڑ فنڈز جاری کروانے کا اعلان کیا، لیکن 50 کروڑ سے سڑک کی تعمیر تو دور سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی نہ ہو سکا۔
الیکشن کے بعد چوہدری فرخ الطاف ممبر قومی اسمبلی اور برگیڈیئر (ر) مشتاق احمد للِہ ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ للِہ جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر کے لیے ایم پی اے مشتاق احمد للِہ نے اسمبلی میں تقریریں کیں، لیکن سوشل میڈیا تک ہی محدود رہیں اور عملی کام نہ ہو سکا۔ ایم این اے چوہدری فرخ الطاف نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو فنڈز کے اجرا کے لیے خط لکھا۔ سابق ایم پی اے حاجی ناصر للِہ کی وساطت سے صہیب بھرتھ نے 8 ارب سے زائد فنڈز کی سمری کابینہ میں پیش کی۔
گزشتہ سال نومبر میں مشیر صحت جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈدادنخان کا دورہ کیا اور سابق ایم پی اے حاجی ناصر للِہ سے ملاقات میں کہا کہ اگر آپ شور مچاتے تو پنڈدادنخان کی حالت بڑی زبردست ہوتی۔ میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے للِہ جہلم ڈیول کیرج وے منصوبہ کے لیے جلد خوشخبری کا اعلان کیا۔
چند دن بعد مسلم لیگ ن کے رہنما ممبر قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی نے للِہ جہلم سڑک کے لیے 10 ارب فنڈز جاری ہونے اور منصوبہ پر 5 جنوری 2025 سے کام کے آغاز کی نوید سنائی۔ بلال اظہر کیانی کی پریس کانفرنس کے بعد پنڈدادنخان میں سوشل میڈیا پر بھونچال آ گیا، اور فنڈز ریلیز کروانے پر کریڈٹ لینے کی جنگ شروع ہو گئی۔
(خیر سانوں) کریڈٹ سب لیں، مگر اس منصوبے میں تاخیر سے شہری جس اذیت اور کرب میں مبتلا رہے، اس کا ذمہ دار کون؟ اور اگر 5 جنوری 2025 کو سڑک کی تعمیر کا کام شروع نہ ہو سکا، تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ دعا ہے کہ 5 جنوری کو للِہ جہلم سڑک کی تعمیر شروع ہو تاکہ شہریوں کی مشکلات کم ہو سکیں اور تحصیل پنڈدادنخان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ آمین۔


