جہلم شہر کی سبزی و فروٹ منڈی میں قائم کاشتکار بازار میں ٹیکس وصولی کے خاتمے سے متعلق حکومتی دعوے تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ منڈی میں مختلف ناموں پر مبینہ ٹیکس اور فیسوں کی وصولی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث چھوٹے دکاندار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف عنوانات کے تحت ان سے رقوم وصول کی جا رہی ہیں، جس سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دکانداروں کے مطابق پہلے ہی مہنگائی کے پرفتن دور میں کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں اضافی مالی بوجھ نے چھوٹے کاروباری افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بارہا سبزی و فروٹ منڈیوں میں غیر ضروری ٹیکسوں کے خاتمے کے اعلانات کیے گئے، تاہم عملی طور پر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں کی مبینہ وصولی کے باعث وہ حکومت پنجاب کے مقرر کردہ نرخنامے کے مطابق سبزیاں اور فروٹ فروخت کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
متاثرہ دکانداروں نے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر صحت پنجاب میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی اور ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور سبزی و فروٹ منڈی میں قائم کاشتکار بازار سے غیر قانونی ٹیکس وصولی کا سلسلہ بند کرائیں، تاکہ غریب اور چھوٹے دکاندار سکھ کا سانس لے سکیں اور عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فراہمی ممکن ہو سکے۔


