منگلا: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے 20 اگست 2024 کو ملک کے منگلا اور تربیلا کے ڈیموں کو بیک وقت بھرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے ملک میں دریائے جہلم اور سندھ دونوں دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز میں برف پگھلنے کے ساتھ ساتھ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پانی کی بڑھتی ہوئی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے 13 ملین ایکڑ فٹ پانی (ایم اے ایف) کا ذخیرہ کیا جا سکے گا۔
وزارت آبی وسائل کے ایک سینئرعہدیدار نے بتایا کہ دونوں ڈیموں میں یہ ذخیرہ شدہ پانی ربیع کی فصلوں کی بوائی کے لیے کافی ہو گا جو یکم اکتوبر 2024 کو شروع ہو کر 31 مارچ 2025 کو ختم ہوں گی۔ تربیلا کو 20 اگست 2024 تک 1550 فٹ اور منگلا کو 1242 فٹ تک بھر دیا جائے گا۔
اس وقت تربیلا میں پانی کی سطح 1524 فٹ تک پہنچ گئی ہے جس میں 4 اعشاریہ 343 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا کے آبی ذخائر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5 اعشاریہ 8 ہے جو 20 اگست 2024 تک 1550 فٹ تک بھر جانے پر حاصل کی جانی ہے۔
اسی طرح منگلا ڈیم میں پانی کی سطح اس وقت 1194 اعشاریہ 60 فٹ ہے جس کا ذخیرہ 3 اعشاریہ 926 ایم اے ایف ہے۔ تاہم منگلا ڈیم میں 7 اعشاریہ 2 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جسے 20 اگست 2024 تک 1242 فٹ تک بھرنے پر استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس چشمہ بیراج میں زیادہ سے زیادہ 0 اعشاریہ 3 ایم اے ایف ہوگا۔
ربیع سیزن کے لیے جو یکم اکتوبر 2024 سے شروع ہونے والا ہے اس نظام میں گندم کی فصل اور دیگر موسمی سبزیوں کی بوائی کے لیے ملک کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وافر مقدار میں پانی موجود ہو گا۔


