جہلم: ضلع بھر میں گندم کے کم سرکاری نرخوں کے باعث کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کسانوں کی طرف سے گندم کا کم از کم سرکاری نرخ 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے گندم کے سرکاری نرخ 3900 روپے فی من مقررکر دیئے ہیں ۔ گندم کے کم سرکاری نرخوں کے باعث کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب کسانوں کو بھی بد حالی کا شکار بنا کر رکھ دیا ہے۔
بجلی ڈیزل مہنگا ہونے اور بلیک میں کھادیں خریدنے اور فصلوں کی کاشت کرنے کیلئے زمین کی تیاری پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں جبکہ رہی سہی کسر مہنگی کھادوں نے پوری کر دی ہے۔
بجلی کے بھاری بلوں اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کسان اپنی فصلوں کو پانی فراہم کرنے کیلئے سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ فصلوں پر آنے والے اخراجات کے باعث کسانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ غریب کسانوں کے لئے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ترین ہو چکا ہے۔
مقامی کسانوں نے اعلیٰ حکام سے گندم کا کم از کم سرکاری نرخ 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے اور کسانوں کے لئے بجلی سستی اور کھادیں سرکاری نرخوں پر مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


