دینہ: جہلم پولیس نے مبینہ طور پر 3 بچوں کا جنسی استحصال اور دیگر 7 بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے مدرسے جامعہ دارالقرآن پیپل والی گلی مین بازار دینہ کے استاد قاری محمد عمران ضیاء قریشی کو متاثرہ طلبہ کے ہمراہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) میں پیش کردیا۔
جہلم اپڈیٹس کی رپورٹ کے مطابق سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) صدر سرکل رانا ندیم طارق نے بتایا کہ استاد پر اپنے 3 طلبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
پولیس تھانہ دینہ کے ایس ایچ او احسان شاہ کے مطابق والدین کی شکایت پر پولیس نے 4 اپریل کو استاد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (3) اور 377 بی کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دینہ کے مدرسے میں کئی طلباء سے بدفعلی کا انکشاف، معلم گرفتار
بعد ازاں پولیس نے ملزمان اور متاثرہ بچوں کو عدالت میں پیش کیا جہاں تینوں بچوں کے والدین نے عدالت سے اپنے بچوں کو ہسپتال میں طبی معائنے سے استثنیٰ دینے کی استدعا کی، عدالت نے ان کی درخواستیں منظور کر لی اور ملزم کو منگل تک پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ندیم طارق نے بتایا کہ ملزمان کے ساتھ ساتھ تینوں متاثرین کو پی ایف ایس اے لاہور بھیجا گیا اور ان کے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں، ملزم کے گندے کپڑے اور کچھ استعمال شدہ ٹشو پیپرز بھی اس کی رہائش گاہ سے متصل کمرے سے برآمد ہوئے اور انہیں بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پیش کیا گیا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: دینہ میں مدرسے کے بچوں سے مبینہ زیادتی کا معاملہ، دوسرا رخ بھی سامنے آ گیا
ندیم طارق نے بتایا کہ تقریباً تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اس معاملے میں پولیس کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی، ہم مقررہ مدت کے اندر چالان داخل کرنے کو یقینی بنائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ 376 (3) اور 377 بی قطعی طور پر ناقابل ضمانت جرم ہے۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ پولیس منگل کو مزید تفتیش کے لیے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کا مطالبہ کرے گی۔


