گریٹر مانچسٹر / بولٹن: برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے آستانہ عالیہ بگھار شریف کے سجادہ نشین پروفیسر ڈاکٹر پیر ساجد الرحمٰن نے کہا ہے کہ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی ﷺ اس وقت دنیا میں تشریف لائے جب تمام دنیا کے انسان جہالت، پستی اور کفر کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، اخلاقی شائستگی اور تہذیب سے ناآشنا تھے قتل خون ریزی اور ہر برائی ان کی زندگی کے معمولات تھے آپؐ کی آمد سے کراہتی اور سسکتی ہوئی دنیا انسانیت کو چین نصیب ہوا، ظلم و جبر کا خاتمہ ہوا ، فحش کاری بے حیائی نے منہ چھپایا ہر طرف انسانیت کو ایک نئی زندگی ملی جس سے سارا عالم جگمگا اٹھا اور ہر سوبہار آگئی ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان روانگی سے قبل جامعہ مسجد غوثیہ بلیک برن میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سید اسرار حسین شاہ بخاری، حافظ امجد محمود بگھاروی، حافظ ارشد محمود چشتی کے علاہ مریدین اور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا نفسانفسی کے اس دور میں سب سے بڑا پیغام عشق رسول میں ڈوب کر سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے کے عزم و عہد کی تجدید کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلگتی انسانیت عدل و انصاف پر مبنی نئے نظام کی متلاشی ہے جو اسلام کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں پوری دنیا اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے آج ہر مسلمان ہر جگہ صیہونی قوتوں کے زیرعتاب ہے ایسے میںبالخصوص عالم اسلام کے مسائل ان کے حل اور بالعموم پوری دنیامیں لگی نفرت و بربادی کی اس آگ کو تاجدار مدنی سرکار دو عالمﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی بجھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مغربی استعمار اور اس کے اہل دانش کو اس بات کا بخوبی علم ہے اور نہیں اس بات کا اندازہ ہے اور وہ اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ ان کی تہذیب اور نظام کے پاس انسانوں کے مادی اور روحانی مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔ انہوں نے کہا آج کی انسانیت کے مسائل کا حل صرف اورصرف اسلام کے پاس ہے کیونکہ امت مسلمہ کی شاندار اور قابل فخر تاریخ موجود ہے اور مسلمان ایک بڑی طاقت کا درجہ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب اسلامی تحریکوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا حضور پاکؐ کی پوری زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے مسلمانوں کو کسی اور رول ماڈل کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، نفسا نفسی کے اس دور میں امت مسلمہ کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات کو شامل کرنے سے ہی ملک و قوم کی بہتری کیلئے کام کیاجا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی معاشروں میں رہنے والے والدین اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں اور اپنے گھریلو ماحول میں اسلامی انداز اختیار کریں تاکہ آنے والے وقتوں میں برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی سربلندی اورموجودہ معاشرے کیلئے ایک عظیم کردار ادا کرسکے۔
سید اسرار حسین شاہ نے کہا کہ امت مسلمہ کا فرض بنتا ہے کہ دنیابھر میں رسول عربی کے عظیم اور کامل پیغام سے روشناس کرائیں اور بالخصوص برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی تعلیم کا انداز وہی رکھیں جو خود تاجدار مدینہ اہل بیت ، خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، صوفیائے عظام اور اولیا اللہ نے اختیار کیا تھا۔
حافظ ارشد محمود چشتی نے کہا کہ عالم اسلام تاریخ کے نازک ترین دورسے گزر رہا ہے اس کیلئے بزرگان دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر موجودہ دور کے علما ومشائخ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے دین اسلام کی ترویج و ترقی اور نوجوان نسل کی دینی و دنیاوی اور روحانی تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا۔
حافظ امجد محمود بگھاروی نے کہا کہ اسلام اور رسول کریمﷺ کی تعلیمات ہمیں رنگ و نسل کی بنیاد پر آپس میں گروہ بندیوں سے باز رہنے کا درس دیتی ہیں اوربرطانیہ ایک ملٹی کلچرل معاشرہ ہے اس میں رہتے ہوئے تاجدار مدنی ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر ہی تمام تر مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
بارگاہ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت ارشد محمود بگھاروی اور صوفی محمد اصغر نے پیش کیا اور تقریب کے آخر میں اسلام کی سربلندی ، فلسطین مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور امت مسلمہ کی کامیابیوں اور کامرانیوں کیلئے خصوصی دعا پروفیسر ڈاکٹر پیر ساجد الرحمٰن نے کی۔


