جہلم: چک براہم کے رہائشی سابق لمبردار چوہدری نوید بوستان خان نے کہا ہے کہ انہیں 2010ء میں میرٹ پر گاؤں کا لمبردار مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں مبینہ طور پر سیاسی مداخلت اور قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں عہدے سے محروم کر دیا گیا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا غیر جانب دارانہ اور شفاف جائزہ لے کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نوید بوستان خان نے بتایا کہ ان کے پردادا چوہدری میجر فضل الٰہی، دادا چوہدری میجر (ر) محمد صادق اور والد چوہدری بوستان خان گاؤں کے لمبردار رہ چکے ہیں، جبکہ ان کے والد کی وفات کے بعد انہیں 2010ء میں میرٹ پر لمبردار مقرر کیا گیا تھا۔
چوہدری نوید بوستان خان کے مطابق اکتوبر 2017ء میں ان پر غیرحاضری کا الزام عائد کرکے ان کا مؤقف سنے بغیر انہیں لمبرداری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، حالانکہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے چچا چوہدری امیر افضل بطور سربراہ لمبردار ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بعدازاں اظہر اقبال کو لمبردار مقرر کیا گیا، جبکہ جون 2019ء میں محمد اسلم ولد عبدالخالق کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ چوہدری نوید بوستان خان کے مطابق انہوں نے اس فیصلے کے خلاف حصولِ انصاف کے لیے بورڈ آف ریونیو سے رجوع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی سماعت کے دوران محمد اسلم اپریل 2026ء میں وفات پا گئے، جس کے بعد 18 مئی 2026ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو چار ماہ کے اندر معاملے کا فیصلہ کرکے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
چوہدری نوید بوستان خان کے مطابق مقررہ کارروائی کے دوران گاؤں کے افراد سے رائے بھی لی گئی، جس میں ان کے دعوے کے مطابق انہیں 143 ووٹ، اظہر اقبال کو 97 جبکہ منصور انور کو 13 ووٹ حاصل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ قواعد کے تحت زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو مقررہ نمبرز دیے جاتے ہیں، جبکہ اراضی وغیرہ کے نمبرز بھی میرٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔
سابق لمبردار کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ طریقہ کار اور حاصل کردہ نمبرز کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر نے فیصلہ ان کے حق میں کرنے کے بجائے دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو لمبردار مقرر کر دیا۔ انہوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں تمام متعلقہ ریکارڈ، مقررہ قواعد اور میرٹ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
چوہدری نوید بوستان خان نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور بورڈ آف ریونیو سے اپیل کی ہے کہ ان کے معاملے کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، متعلقہ ریکارڈ اور میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے اور اگر کسی مرحلے پر ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست کا مقصد صرف انصاف کا حصول ہے تاکہ اگر وہ میرٹ پر حق دار قرار پائیں تو انہیں دوبارہ گاؤں کے عوام کی خدمت کا موقع فراہم ہو سکے۔


