جہلم: شہر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے واسا کی جانب سے واٹر سپلائی کے پلاسٹک پائپ ڈالنے کے نام پر مختلف گلی محلوں اور بازاروں میں اکھاڑ بچھاڑ جاری ہے، تاہم پائپ لائن کی تنصیب کے بعد سڑکوں اور راستوں کی مرمت نہ کیے جانے پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کے مطابق واسا حکام نے شہر کے متعدد علاقوں میں گلیاں اور بازار کھود تو دیے، مگر بعد ازاں انہیں درست حالت میں بحال کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ بارش کے بعد ان کھودے گئے راستوں میں پانی جمع ہو کر کیچڑ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے باعث بچوں، خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کو آمد و رفت میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔ متعدد شہری پھسل کر زخمی بھی ہو چکے ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی کے پلاسٹک پائپ ڈالنا اگرچہ ایک ضروری منصوبہ ہے، مگر گلیوں اور سڑکوں کی مرمت کرنا بھی واسا کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے ادارہ مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ متاثرہ علاقوں میں روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور شہری ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، واسا کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہر کی گلیوں، محلوں اور بازاروں کی فوری مرمت کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔


