سوہاوہ: گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ڈومیلی میں سالانہ نتائج کے اعلان کے سلسلے میں ایک پُروقار اور رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری محمد شہزاد، ڈپٹی ڈی ای او زنانہ نعیم اختر مرزا، اور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی اسکول ڈومیلی ذیشان منیر تھے۔
تقریب میں معزز مہمانوں راجہ جہانزیب کیانی، عمیر کیانی، محمد کامران، اسکول کونسل کے ممبران، ڈونرز اور طالبات کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسکول پہنچنے پر مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا اور سابق ہیڈ مسٹریس کوثر سلیم نے انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔
اس موقع پر طالبات نے اسٹیج پر مختلف ٹیبلوز اور ثقافتی پروگرامز پیش کیے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ کامیاب طالبات میں مہمانوں نے انعامات بھی تقسیم کیے۔ سابقہ ہیڈ مسٹریس کوثر سلیم نے مہمانوں، کونسل ممبران اور میڈیا نمائندگان میں اعزازی شیلڈز تقسیم کیں۔
اپنے خطاب میں کوثر سلیم نے کہا کہ انہوں نے اس اسکول میں صرف چھ ماہ خدمات انجام دیں، لیکن اس قلیل عرصے میں اسکول کی حالت کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے اسکول کے درپیش مسائل بھی افسران کے سامنے رکھے اور امید ظاہر کی کہ ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
راجہ جہانزیب کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو ایک واضح ویژن دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ بچوں کو موبائل فون سے دور رکھیں اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کی تعریف کی اور اسکول کے لیے مالی تعاون بھی فراہم کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسکول کے مسائل بلال اظہر کیانی تک پہنچا کر ضرور حل کروائے جائیں گے۔
ہیڈ مسٹریس سونیا نوشین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسکول کی سربراہی سنبھال لی ہے اور وہ مہمانوں، والدین اور اسٹاف کی شکر گزار ہیں جنہوں نے پروگرام کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں نہم جماعت کے لیے ہیلتھ سائنس، بایو سائنس اور کمپیوٹر سائنس کلاسز کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ چھوٹی جماعتوں میں بھی داخلہ مہم جاری ہے۔
سونیا نوشین نے مزید کہا کہ اسکول میں طالبات کی بہتر تعلیم کے لیے تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں، جن میں کمپیوٹر لیب، لائبریری، سائنس لیب، صاف پانی، صاف ستھرا ماحول، سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی اور مکمل تدریسی عملہ شامل ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی بچیوں کو داخلہ دلوائیں تاکہ وہ مفت کتابیں اور مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔


