دینہ/منگلا: ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم طارق عزیز سندھو کے ہمراہ جہلم کی تحصیل دینہ میں تھانہ دینہ اور تھانہ منگلا کینٹ کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد پولیس کارکردگی کا جائزہ لینا، تھانوں کی حالت زار دیکھنا، امن و امان سے متعلق معاملات پر مشاورت اور شہداء کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔
تھانہ دینہ اور تھانہ منگلا کینٹ کا دورہ
دوران وزٹ آر پی او راولپنڈی نے تھانوں کی عمارت، SIPs پروٹوکول، فرنٹ ڈیسک، مال خانہ اور میس ہال کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ تھانوں کی صفائی، نظم و نسق اور شہری سہولیات کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ "سرکاری تنصیبات اس ملک و قوم کی امانت اور پنجاب پولیس کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔” آر پی او نے مزید کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں مقررہ وقت کے اندر ایف آئی آرز کے اندراج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
آر پی او نے افسران پر زور دیا کہ شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور ان کے مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تھانہ جات کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اور پولیس دفاتر کے سرپرائز وزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ کارکردگی میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔
امن کمیٹی اور نمبرداران سے ملاقات
تھانہ منگلا کینٹ میں آر پی او بابر سرفراز الپا اور ڈی پی او طارق عزیز سندھو نے امن کمیٹی کے اراکین اور علاقہ کے نمبرداران سے ملاقات کی۔ میٹنگ میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور امن و امان کے قیام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
شہید کانسٹیبل ذیشان علی کی فیملی سے ملاقات
دورے کے اختتام پر آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او جہلم نے تھانہ منگلا کینٹ میں شہید کانسٹیبل ذیشان علی کے اہلخانہ سے ملاقات کی، تحائف پیش کیے اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر آر پی او نے کہا کہ "شہداء پولیس کی فیملیز ہماری اپنی فیملیز ہیں۔ ہمارے دفاتر کے دروازے ان کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔ اگر کسی بھی شہید فیملی کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ میرے دفتر کو اپنا سمجھ کر آئیں۔”
ڈی پی او جہلم نے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اپنے شہداء کے بچوں اور والدین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی کفالت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔


