گوجر خان سے تقریباً 15 کلومیٹر جنوب میں واقع پُرامن گاؤں کونتریلا میں بخشی رام سنگھ حویلی ماضی کی شان و شوکت کی گواہی دیتی ہے۔ آج یہ عمارت اپنی سابقہ عظمت کا صرف ایک سایہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کا اندرونی حصہ خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کی نفیس نقش و نگار غفلت کی پرتوں کے نیچے دھندلا گئے ہیں۔
موقر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حویلی اپنی زبوں حالی کے باوجود آج بھی اپنے ماضی کی کہانیاں سناتی ہے۔ وہ وقت جب یہ خطے کی ثقافتی اور تعمیراتی شان و شوکت کا مرکز تھی۔ یہ حویلی انیسویں صدی کے آخر میں نوآبادیاتی دور کے دوران ایک معروف مقامی تاجر اور رئیس "بخشی رام سنگھ” نے تعمیر کروائی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب خطے میں سیاسی اور ثقافتی تبدیلیاں زوروں پر تھیں۔

حویلی کے داخلی دروازے پر درج ہے:
یہ حویلی بخشی رام کی یاد میں 1886 ء میں تعمیر کی گئی۔
اس کی تعمیرات "روایتی پنجابی اور مغل طرز” کا امتزاج ہیں جو اس دور کی ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ عمارت چار منزلوں پر مشتمل ہے، جن میں ایک تہہ خانہ، 32 کمرے، کشادہ صحن، دو پہرے کے مینار، کھلی برآمدے اور نفیس لکڑی کے نقش و نگار شامل ہیں جو اس زمانے کی شان و شوکت کو بیان کرتے ہیں۔

حویلی میں ایک خفیہ کمرہ بھی تھا جہاں زیورات، نقدی اور اہم دستاویزات محفوظ رکھی جاتی تھیں۔ کونتریلا گاؤں کے بزرگوں کے مطابق بخشی رام سنگھ حویلی اُس وقت کے سماجی اور سیاسی زندگی کا مرکز تھی۔ یہاں شاندار محفلیں ہوتی تھیں، جہاں مقامی اشرافیہ، برطانوی افسران اور دیگر اہم شخصیات سیاست، حکمرانی اور کاروبار پر گفتگو کے لیے جمع ہوتے تھے۔
1947 ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد نوآبادیاتی دور کا خاتمہ ہوا اور کئی اہم خاندانوں کے ساتھ بخشی رام سنگھ کا خاندان بھی بھارت ہجرت کر گیا۔ ان کے جانے کے بعد یہ شاندار رہائش گاہ وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی۔ مقامی گاؤں والے وسائل اور علم کی کمی کے باعث حویلی کو بحال نہ کر سکے اور یہ آہستہ آہستہ خستہ حالی کا شکار ہوتی گئی۔

بابو خالد کے مطابق، حویلی 1975ء تک بچوں کے اسکول کے طور پر استعمال ہوتی رہی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ویران ہو گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ عمارت "ہمیشہ کے لیے بند رہتی ہے اور شاذ و نادر ہی کھولی جاتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "نفیس لکڑی کا کام مدھم ہو چکا ہے، کشادہ صحن جھاڑیوں اور جنگلی پودوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ کئی کمروں کی چھتیں گر چکی ہیں۔”
مرزا نظر حسین نے بتایا کہ حویلی کی چھتیں اب کسی کا وزن برداشت نہیں کر سکتیں اور یہ عمارت اب بھوت بنگلے کی طرح دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ ہزاروں چمگادڑوں کا مسکن بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حویلی کی بحالی کا کام پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیرٹیج ایریاز اتھارٹی (PWCHAA) کو سونپا گیا تھا، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ کام شروع نہ ہو سکا۔
پی ڈبلیو سی ایچ اے اے کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری کے مطابق، حویلی کے اندرونی دروازے کی مرمت، سطح کی ہمواری، لکڑی کی چھتوں کی بحالی، دھات کے پلستر، کھڑکیوں کی مرمت، اور عوامی خدمت کے لیے ایک واش روم کے قیام کے لیے ایک سروے کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، لیکن جیسے ہی فنڈز کا انتظام ہو گا، کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے گا۔


