سوہاوہ کے نواحی علاقہ ڈومیلی میں مضر صحت کھانا کھانے سے خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد کو حالت غیر ہونے پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ تین روز قبل مضر صحت کھانا کھانے سے اسی خاندان کے 8 افراد متاثر ہوئے تھے اور دو بچے دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق تین روز کے دوران جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی کے گاؤں ڈھوک شیریاں میں فوڈ پوائزننگ کا دوسرا واقعہ ہے۔ مضر صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے دو کم عمر لڑکی لڑکا، چار خواتین اور چار مردوں کی حالت غیر ہوگئی جنہیں فوری طور پہلے سوہاوہ اور بعدازاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم منتقل کر دیا گیا۔
متاثرہ ہونے والوں 60 عبدالحمید، 80 سالہ محمد عنایٹ، 30سالہ عالیہ، 18 سالہ عظیمہ، 18 سالہ حمزہ علی، 10 سالہ مریم، 16 سالہ آمنہ، 40 سالہ امجد، 11 سالہ عربیہ اور 17سالہ بلال شامل ہیں۔ تین روز قبل مضر صحت کھانا کھانے سے اسی خاندان کے 2 بچے جاں بحق جبکہ 6 بچوں کی حالت بگڑ گئی تھی۔
ڈاکٹرز کے مطابق تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے انکی سیمپلنگ کی جارہی ہے معدے کو صاف کردیا گیا۔ ڈی ایم ایس ڈاکٹر عمر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس آنے والے دس مریض خطرے سے باہر ہیں۔ ڈاکٹر چیک اپ کر رہے ہیں اور مزید ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوگا کہ فوڈ پوائزنگ ہے یا کچھ اور ہے۔
اہلخانہ کے مطابق گھر میں فوتگی کی وجہ سے خاندان کے لوگ اکھٹے تھے، کھانے کے بعد طبیعت بگڑی ہے۔ قریبی رشتہ دار عامر حسین کا کہنا ہے کہ سب نے کھانا کھایا، پتہ نہیں سالن میں کچھ تھا یا پانی میں۔ متاثر ہونے والی مریضہ عریبہ کا کہنا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد مجھے گھبراہٹ محسوس ہوئی ہے اور طبیعت خراب ہوگئی۔


