جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی ظلم و ستم پر مسلم حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی پورے عالم اسلام میں گہری تشویش اور اضطراب پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کھلم کھلا حمایت کے ساتھ اسرائیل اہل فلسطین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ نہتے شہریوں، خواتین اور معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ یہ مظالم کئی ماہ سے جاری ہیں لیکن افسوس کہ ستاون اسلامی ممالک میں سے کسی طرف سے عملی اقدام یا اسلامی غیرت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا، جو عالم اسلام کے عوام کے لیے اذیت کا باعث بن رہا ہے۔
حافظ عبدالحمید عامر نے کہا کہ جذبانی نعرہ بازی سے آگے بڑھ کر، اس وقت اہل دانش، علمائے کرام اور قیادت کو مل بیٹھ کر فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے کوئی موثر اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ مداوا ممکن ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کی سرزمین صرف اہل فلسطین کی ہے، اور یہ امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک قابض یہودیوں کو وہاں مستقل آباد کر کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی جاتی رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ارض مقدس ہے، اور فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق وہاں اہلِ حق کا ایک گروہ قیامت تک موجود رہے گا۔
آخر میں انہوں نے حکومت پاکستان سے پرزور اپیل کی کہ وہ فلسطین کا مقدمہ عالمی سطح پر جرأت کے ساتھ پیش کرے اور کم از کم فلسطینی عوام کے لیے فضائی تحفظ کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام فلسطینیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں اور اس کاز میں یک آواز ہیں۔


