جہلم میں سردی کی شدت نے دستک دے دی ہے۔ شہر کی سڑکوں، گلیوں اور چوراہوں پر وہ لوگ بھی موجود ہیں جو محنت مزدوری میں مصروف ہیں اور ٹھنڈی ہوا کے شدید جھونکوں میں صرف رزقِ حلال کی تلاش میں دن رات محنت کر رہے ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنی گاڑیوں میں ایک اضافی گرم چادر، جیکٹ یا جرسی ضرور رکھیں تاکہ اگر راستے میں کوئی محنت کش، رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی والے یا ریڑھی بان شدید سردی میں کپکپاتا نظر آئے تو فوراً اسے فراہم کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے سے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مدد دینے کے بعد مڑ کر پیچھے نہ دیکھیں، کیونکہ جو دلی اور روحانی سکون اس نیکی کے عمل سے ملے گا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ماہرین اور سماجی کارکنوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ سردی کے اس موسم میں ایک چھوٹا سا قدم کسی کے لیے بڑی رحمت اور راحت ثابت ہو سکتا ہے۔


