جہلم ایک تاریخی اور خوبصورت ضلع ہے جسے پنجاب کی اہم دریا جہلم نے اپنی قدرتی خوبصورتی عطاء کی ہے مگر بدقسمتی سے آج یہ علاقہ مختلف مسائل کی لپیٹ میں ہے جن میں ماحولیاتی آلودگی، ناقص نکاسی آب اور صاف پانی کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ مقامی لوگ اور یہاں کے دیہات کے باسی ان مسائل سے بری طرح متاثر ہیں مگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اکثر "سب اچھا ہے” کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے، جو زمینی حقائق سے متضاد ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہلم کے اکثر علاقوں میں کچرے کی صفائی اور نکاسی آب کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہے۔ کچرے کے ڈھیروں کی بھرمار ہے اور اکثر نالے بند ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بارش کے دوران گندا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر دیہات کے لوگ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے لئے یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے مگر حکام کی طرف سے ان مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور سب اچھا کی رپورٹس پیش کر دی جاتی ہیں۔
جہلم کے اکثر دیہات میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں کمی اور آلودگی کی وجہ سے لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے۔ حکومت کی طرف سے پانی کی فراہمی کے منصوبے موجود تو ہیں مگر ان کی ناکافی دیکھ بھال اور غیر موثر عمل درآمد کی وجہ سے یہ مسائل برقرار ہیں۔
جہلم اور اس کے گرد و نواح کے دیہات میں درختوں کی کٹائی اور جنگلات کے خاتمے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے علاقے میں درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ درختوں کی کمی نے نہ صرف ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں مگر ضلعی انتظامیہ ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان پر پردہ ڈالنے میں مصروف نظر آتی ہے۔
جہلم کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اکثر "سب اچھا ہے” کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کی بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں، ضلعی سطح پر بنیادی سہولیات میں بہتری کی کمی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مبالغہ آمیز رپورٹیں دی جاتی ہیں جو زمینی حقائق کے برعکس ہوتی ہیں، جس سے مسائل کا شکار لوگوں کو مزید مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔
جہلم کے شہری اور دیہاتی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حقیقی مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں، ان کا مطالبہ ہے کہ کچرے اور نکاسی آب کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو بہتر بنایا جائے۔ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے شجرکاری کے منصوبے شروع کیے جائیں۔
جہلم کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اگر صحیح معنوں میں عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوششیں کرے تو اس شہر کی خوبصورتی اور مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جہلم کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ "سب اچھا ہے” کہنا مسائل کو حل کرنے کا متبادل نہیں ہے۔ شہر اور دیہاتوں کے باسی حقیقت میں بنیادی مسائل سے دوچار ہیں جن میں ماحولیاتی آلودگی، نکاسی آب کے مسائل، اور پینے کے صاف پانی کی کمی شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس سے عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ان مسائل کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان پر عملی اقدامات کریں۔ "سب اچھا” کی رٹ صرف کاغذات میں اچھی لگتی ہے مگر حقیقت میں اس سے عوام کی مشکلات بڑھتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ علاقے کا دورہ کریں، عوامی نمائندوں سے ملاقات کریں اور عوام کے مسائل کو سن کر ان کا حل تلاش کریں۔ عوام کی خدمت کا تقاضا یہ ہے کہ زمین پر کام کیا جائے اور ہر مسئلے کا حقیقی حل فراہم کیا جائے تاکہ جہلم کے لوگ سکون کی زندگی گزار سکیں اور یہ خوبصورت علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔


