جہلم:ضلع جہلم کے مختلف صوبائی محکموں میں مبینہ طور پر بوگس بلوں، مالی بے ضابطگیوں، سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے پر شہریوں نے متعلقہ اداروں سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق بعض سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں میں تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کے دوران مبینہ طور پر بوگس بلوں کی منظوری دے کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوٹیفکیشن منصوبوں، گرین بیلٹس، کھجور کے درختوں اور پھولدار پودوں کی تنصیب، ماڈل ریڑھیوں، انتظار گاہوں اور ستھرا پنجاب سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات گردش کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض سرکاری محکموں میں چھوٹے تعمیراتی منصوبوں اور مقامی خریداری (لوکل پرچیز) کے لیے کوٹیشن سسٹم کے ذریعے مبینہ طور پر من پسند افراد کو نوازنے، جعلی بلوں کی منظوری، جنریٹرز کے ایندھن کے مصنوعی بل بنانے اور مخیر حضرات کی جانب سے عطیہ کیے گئے سامان کے باوجود سرکاری ادائیگیاں ظاہر کرنے جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور خفیہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر مالی بے ضابطگی یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب، محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ سرکاری محکموں میں شفافیت، احتساب اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔


