جہلم: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے ایسی تصاویر تیار کرنا ممکن بنا دیا ہے جو حقیقت سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتی ہیں۔
اس پیش رفت کے باعث عام افراد کے لیے اصل اور مصنوعی (اے آئی سے تیار کردہ) تصاویر میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں چند اہم علامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مدد سے جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کی شناخت نسبتاً آسان بنائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی تصویر میں ہاتھوں کی انگلیاں غیر معمولی تعداد میں ہوں یا ان کی ساخت غیر فطری دکھائی دے، چہرے کے خدوخال غیر متوازن ہوں، آنکھوں کی سمت مختلف نظر آئے، دانت غیر حقیقی محسوس ہوں یا پس منظر میں موجود اشیاء بے ترتیب اور غیر منطقی دکھائی دیں تو اس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہو۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس، زیورات، تحریر، سائن بورڈز یا دیگر متن میں غلط، بے معنی یا دھندلے الفاظ بھی جعلی تصاویر کی نمایاں علامات میں شامل ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات متن کو درست انداز میں تخلیق نہیں کر پاتی۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کسی بھی تصویر کو بغیر تصدیق کے درست نہ سمجھیں، بلکہ اسے معتبر اور مستند ذرائع سے ضرور جانچیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر غلط معلومات، افواہوں اور عوامی گمراہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں مصنوعی ذہانت کے بے شمار مثبت استعمال موجود ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ عوام میں ڈیجیٹل شعور اور معلومات کی تصدیق کی عادت فروغ دے کر جعلی مواد کے منفی اثرات سے مؤثر انداز میں بچا جا سکتا ہے۔


