جہلم: بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران تقریباً اڑھائی لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل ہو گئے، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستانی افرادی قوت کی بڑی منزلیں رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سب سے بڑی منزل ثابت ہوا جہاں ایک لاکھ 36 ہزار 488 پاکستانی روزگار کیلئے گئے۔ متحدہ عرب امارات جانے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال مجموعی طور پر 52 ہزار 500 پاکستانی دبئی گئے تھے، جبکہ رواں سال صرف چار ماہ میں ہی 50 ہزار پاکستانی دبئی روانہ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر کیلئے 25 ہزار 500، بحرین کیلئے 10 ہزار 120 پاکستانی گئے، جبکہ ترکیہ میں 3 ہزار، برطانیہ میں 1100 اور امریکہ میں 300 پاکستانیوں نے روزگار حاصل کیا۔
اسی طرح 850 پاکستانی چین، 1286 یونان، 1283 عراق جبکہ 577 پاکستانی جاپان منتقل ہوئے۔ دستاویزات کے مطابق گرین لینڈ، تنزانیہ، ترکمانستان اور مغربی افریقہ کیلئے کسی پاکستانی کی روانگی ریکارڈ نہیں ہوئی۔
بیرون ملک جانے والوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں ایک ہزار 78 ڈاکٹرز، 2 ہزار انجینئرز، 419 نرسز، 1650 اکاؤنٹنٹس اور 500 سے زائد آئی ٹی ماہرین شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک چھوڑنے والوں میں ڈیڑھ لاکھ مزدور، 45 ہزار سے زائد ڈرائیورز، ساڑھے 9 ہزار ککس، 1235 الیکٹریشنز، 818 مکینکس اور متعدد دیگر ہنر مند افراد بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک پاکستانی افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی منتقلی ایک جانب ترسیلاتِ زر میں اضافے کا سبب بنتی ہے، تاہم دوسری جانب ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کے ملک چھوڑنے سے مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کا خدشہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔


