جہلم: مہنگائی کی ستائے عوام کے لئے پریشانیاں مزید بڑھنے لگیں، مرغی کا گوشت ایک مرتبہ پھر 4سنچریاں عبور کر گیا۔سستی پروٹین غریب عوام کی پہنچ سے ایک بار پھر کوسوں میل دور، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس غائب، چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج، شہری سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ روزانہ کا معمول بن چکا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر غریب صارفین سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔اگر ہم مرغی کے گوشت کی قیمت کی بات کریں تو مرغی کے گوشت کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے جس کیوجہ سے صارفین کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔
مرغی کا گوشت جو کہ گزشتہ ہفتے 350 تا 380 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہا تھا اچانک مرغی فروشوں نے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے 4 سو50 روپے میں ساڑھے 7 سو گرام فروخت کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ غریب پسے ہوئے طبقے کے ساتھ ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے۔
شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ عید الضحیٰ کی آمد کے باعث مرغی کے گوشت کی قیمت مزید کم ہونگی ، پچھلے ہفتے قیمتوں میں کمی کیوجہ سے عوام نے مرغی کے گوشت کا استعمال کرنا شروع کررکھا تھا۔مرغی کے گوشت کی طلب کو بھانپتے ہوئے مرغی فروش مافیا نے گوشت کی قیمت کو اچانک بڑھا دیا ہے جو کہ عوام کے ساتھ سراسرزیادتی کے مترادف ہے ۔
عوامی وسماجی حلقوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے دکانداروں کو صارفین کی چمڑیاں ادھیڑنے کی انتظامیہ نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان ، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے تاکہ ضلع بھر میں قائم ہونے والی خود ساختہ مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔


