جہلم میں 14 سالہ لڑکے کے لرزہ خیز قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، پولیس نے دو نامزد ملزمان کوحراست میں لے لیا۔
جہلم اپڈیٹس کے مطابق جہلم کے نواحی علاقہ میں 14 سالہ یتیم لڑکے سیف اللہ کے لرزہ خیز قتل کا مقدمہ تھانہ چوٹالہ پولیس نے دو نامزد ملزمان مرزا حمزہ اور ذیشان کے خلاف درج کر لیا۔ تھانہ چوٹالہ پولیس نے دونوں نامزد ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے اور پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
ایک روز قبل لاپتہ ہونے والے جہلم کے علاقہ خورد کے رہائشی 14 سالہ سیف اللہ کی تشدد زدہ لاش اتوار کے صبح قریبی کھیتوں سے ملی تھی، مقتول سیف اللہ کو پتھروں سے مار مار کر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول سیف اللہ کو علاقے کے لڑکے مرزاحمزہ اور ذیشان گھر سے بلا کرساتھ لے گئے تھے۔ لاش کے ساتھ خون آلود پتھر پڑا ہوا تھا، سر اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات جبکہ آزار بند کھلا ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول سیف اللہ سے غیر اخلاقی حرکات کیں تو مقتول نے ملزمان کو کہا تھا کہ وہ غیر اخلاقی حرکات بارے گھر بتائے گا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کی تصدیق کیلئے میڈیکل کروا لیا ہے، نمونے تصدیق کیلئے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے۔


