جہلم میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) کی جانب سے سیوریج اور واٹر سپلائی کے بھاری بھرکم بلوں نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں اور گلی محلوں کے مکینوں نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باوجود ہزاروں روپے کے بل جاری کیے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں نہ تو باقاعدہ واٹر سپلائی کا مؤثر نظام موجود ہے اور نہ ہی مکمل سیوریج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس کے باوجود واسا کی جانب سے صارفین کو ہزاروں روپے کے بل بھجوائے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق بعض گھروں میں سرکاری واٹر سپلائی کنکشن موجود ہی نہیں، جبکہ کئی علاقوں میں تاحال سیوریج لائنیں بھی نہیں بچھائی گئیں۔ اس کے باوجود بلوں میں سیوریج چارجز اور دیگر اضافی فیسیں شامل کر کے بھاری رقوم وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ واسا کی جانب سے مبینہ طور پر غلط ریڈنگ، اضافی چارجز اور غیر ضروری فیسوں کے ذریعے عوام پر مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ شہریوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اب زیرِ زمین حاصل کیے جانے والے پانی پر بھی بل وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس پر عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ واسا نے ابھی شہر کے مختلف علاقوں میں سیوریج لائنیں بچھانے کا کام شروع کیا ہے، لیکن بنیادی سہولیات کی مکمل فراہمی سے قبل ہی بلنگ کا آغاز کر دینا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق جب تک شہریوں کو باقاعدہ پانی کی فراہمی اور مکمل سیوریج نظام مہیا نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ایسے بھاری بلوں کا اجرا کسی صورت مناسب نہیں۔
شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی کمشنر جہلم اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا کی جانب سے جاری کیے گئے بھاری بلوں کا فوری جائزہ لیا جائے، اضافی اور غیر ضروری چارجز ختم کیے جائیں اور شہریوں کو حقیقی سہولیات کی فراہمی کے بعد ہی شفاف اور منصفانہ بلنگ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ عوام کو غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات مل سکے۔


