ملک میں زیرگردش 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹ: ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک تک دھوکا کھاگئے

ملک بھر میں جعلی کرنسی نوٹ گردش کررہے ہیں اور لوگوں کو لین دین میں جعلی نوٹوں کے باعث کافی نقصان ہو چکا ہے۔ بعض لوگوں نے تو یہاں تک شکایت کی ہے کہ ان کو بینکوں نے بھی جعلی نوٹ تھمائے ہیں۔ لیکن بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ جعلی نوٹ بنانے والوں کا یہ جرم اتنی مہارت سے کیا گیا ہے کہ عوام یا عام بینک ملازمین تو دور کی بات ہے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین تک ایسے جعلی نوٹوں کے جھانسے میں آگئے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ جعلی کرنسی نوٹوں کا معاملہ سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر بحث آیا جس میں یہ عقدہ بھی کھلا کہ چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا کو بھی لوگ حتیٰ کہ بینکس بھی 5 ہزار روپے کے متعدد جعلی نوٹ تھماچکے ہیں۔ اپنی اور عوام کی اس مشکل پر پریشانی کا شکار سلیم مانڈوی والا نے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کی موجودگی غنیمت جان کر 5 ہزار روپے کے کچھ اصلی اور کچھ جعلی نوٹ موازنے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش کردیے۔

اجلاس میں موجود ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو بھی دونوں طرح کے نوٹ دکھاتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے دریافت کیا کہ ذرا بتائیں کہ ان میں سے کون سے نوٹ اصلی ہیں اور کون سے نقلی ہیں۔

اس پر اجلاس میں موجود تمام افراد یہی توقع کر رہے تھے کہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ایک لحظے میں ہی اصلی اور جعلی نوٹوں کو الگ کر دکھائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ بھی اصلی نوٹوں میں موجود 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کو نہ پہچان سکے۔

چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 5 ہزار روپے کا جعلی نوٹ اگر مجھے دیا جاتا ہے اور میں اسے اصلی سمجھ کر رکھ لیتا ہوں تو پھر عام افراد کا ان نوٹوں کو پہچاننا تو اور زیادہ مشکل ہوتا ہوگا۔

سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ملک میں جعلی کرنسی نوٹوں کا استعمال بڑھ رہا ہے اور بینکوں کے ذریعے بھی جعلی نوٹ پھیل رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی نوٹ بینکوں کے سسٹم میں موجود ہیں لہٰذا اس حوالے سے ایک پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

عوام کے نقصان کے ازالے کی تجویز پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا جواب

چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے کہا کہ عام آدمی اس صورتحال میں کس کے پاس جائے اور اپنا نقصان کس طرح پورا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس بھی بیسیوں جعلی نوٹ ہیں۔

اس موقع پر کمیٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کے پاس جعلی کرنسی نوٹ ہیں ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ کمیٹی نے تجویز کیا کہ نقصان اٹھانے والے افراد کو ایسے جعلی نوٹ کے بدلے اصلی نوٹ دے دیے جائیں۔

اس تجویز پر ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے جواب دیا کہ اسٹیٹ بینک عوام کو نقلی کے بدلے اصلی نوٹ نہیں دے سکتا کیوں کہ اگر ایسا کیا گیا تو کچھ لوگ اسے کاروبار ہی بنالیں گے۔

اجلاس میں موجود ارکان کمیٹی نے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر کے جعلی نوٹوں پر بریفنگ لینے کا مطالبہ کیا جس پر ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک نے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرا دی۔

70 ارب روپے کی منی لانڈرنگ، طاقتور شخصیات کے ملوث ہونے کے امکان کے پیش نظر ’ان کیمرا‘ اجلاس کا فیصلہ

دریں اثنا سینیٹ کمیٹی میں سولر پینلز امپورٹ کے ذریعے 70 ارب کی منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مخصوص ٹرانزیکشنز کے ذریعے بینکوں نے اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے اور ملوث بینکوں پر 9 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ 17 ملازمین کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔

کمیٹی منی لانڈرنگ ک معاملے پر اسٹیٹ بینک کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکی۔ ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 70 ارب روپے کی منی لانڈرنگ پر بینکوں پر صرف 9 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ تو ہنڈی سے بھی زیادہ سستا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سولر پینل کی منی لانڈرنگ پر تحقیقات کے لیے معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کر دیا جائے۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس تفتیش میں کچھ نہ کچھ مسنگ ہے، اگر اسٹیٹ بینک چاہے تو اجلاس ان کیمرا رکھ لیتے ہیں کیوں کہ لگتا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث کافی طاقتور لوگ ہیں جن کا نام نہیں لیا جا رہا۔

بعد ازاں قائمہ کمیٹی کا سولر پینل امپورٹ میں منی لانڈرنگ پر آئندہ اجلاس ان کیمرا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اراکین نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں ان کیمرا بتایا جائے کہ منی لانڈرنگ میں کون سی اہم شخصیات ملوث تھیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button