فرانس میں سفارتخانہ پاکستان کے زیر اہتمام قوالی کی محفل

پیرس: فرانس میں سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام پیرس میں قوالی شام منائی گئی جس نے سامعین کو مسحور کر دیا۔

معروف پاکستانی قوال بختیار علی سنتو اور ان کی ٹیم کی جانب سے دلکش صوفی شاعری پیش کی گئی ۔ سفیر پاکستان عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب مبں کہا کہ قوالی 13ویں صدی سے رائج ہے اور اسے مقبول بنانے کا سہرا زیادہ تر حضرت امیر خسروؒ کو جاتا ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب قوالی صرف صوفی بزرگوں کے مزاروں پر پیش کی جاتی تھیں لیکن اب موسیقی کے اس فارم کو رسمی اور غیر رسمی مواقعوں، فلموں اور دیگر تقریبات سمیت بڑے پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔ اس بات کی بصیرت فراہم کرنا کہ قوالی کی تبدیلی کس طرح ایک رسمی تقریب سے تفریح ​​میں تبدیل ہوئی اس کا سہرا صابری برادران سے لے کر عزیز میاں اور سب سے نمایاں طور پر سپریمو نصرت فتح علی خان تک کے مشہور قوالوں کی نسل کو جاتا ہے۔ پاکستان ایک متنوع موسیقی کا منظر نامہ رکھتا ہے۔

سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ قوالی اپنے روح کو چھو لینے والی دھنوں اور تال کی دھنوں کی وجہ سے ملک بھر میں بے حد مقبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قوالی بین الاقوامی سامعین کیلئے کنسرٹ میں پیش کی جاتی ہے جو دھن کو نہیں سمجھتے ہیں تو ڈرائیونگ تال توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں لاہور پاکستان سے تعلق رکھنے والے بختیار علی سنتو قوال جنہوں نے پیرس کے سامعین کو کیا، ان کا شمار نئی نسل کے معروف قوالوں میں ہوتا ہے اور وہ اپنی زبردست پرفارمنس کیلئے جانے جاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ان کا قوالی میں شدید جھکاؤ، شوق اور دلچسپی تھی کیونکہ یہ محبت، امن، احترام اور عقیدت کا پیغام دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوالی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ موسیقی کی اس شکل کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، اسے صرف محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی حکام اور دوستوں، سفارت کاروں، موسیقی کے شائقین اور میڈیا سمیت لوگوں کی بڑی تعداد قوالی سے لطف اندوز ہوئی، مہمانوں کیلئے لذیذ روایتی پاکستانی کھانے بھی پیش کئے گئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button