جہلم: ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں بھٹہ خشت مالکان نے اینٹوں اور ٹائلوں کے سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مرضی سے قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس کے باعث عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
اینٹوں کے مختلف گریڈز یعنی اول، دوئم، سوم اور ٹائلز کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے ہٹ کر 13 ہزار روپے فی ہزار اینٹ تک جا پہنچی ہیں۔ بھٹہ مالکان نہ صرف اپنی مرضی سے ریٹ مقرر کر رہے ہیں بلکہ اگر کوئی شہری سرکاری نرخوں کی بات کرے تو مالکان صاف انکار کر دیتے ہیں کہ وہ اینٹیں فراہم نہیں کریں گے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بھٹہ کا ریٹ، اینٹ کے سائز اور پکائی کا معیار الگ الگ ہوتا ہے، جس کا کوئی سرکاری ریکارڈ یا کنٹرول موجود نہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ بھٹہ مالکان خود ساختہ قیمتیں مقرر کر کے عوام کا معاشی استحصال کر رہے ہیں جبکہ متعلقہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
شہری، عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں اور بھٹہ مالکان کو سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بند ہو۔


