پنڈدادنخان (میاں ناصر اعوان) دریالہ جالب اور اس کے گرد و نواح میں دودھ فروشوں کی من مانیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ناقص اور مضر صحت دودھ 200 سے 250 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
علاقے میں غیر معیاری دودھ کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جس پر نہ تو کسی قسم کی نگرانی ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص دودھ کے استعمال سے بچوں اور بزرگوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جب کہ مہنگائی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی اور محکمہ صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ کی کوالٹی چیک کی جائے، نرخوں کو کنٹرول کیا جائے اور غیر معیاری دودھ بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری کارروائی نہ کی تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ عوامی نمائندوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور علاقے کے باسیوں کو اس استحصال سے نجات دلائیں۔


