جہلم: صحافتی فرائض کی صحیح معنوں میں انجام دہی پیشہ پیغمبری سے کم نہیں، یہ ملک کا چوتھا ستون اور معاشرے کی برائیوں کے خاتمے کے لیے آنکھ اور کان کا درجہ رکھتا ہے۔ کو شش کی جائے کہ صحافت برائے تنقید سے گریز کر کے صحافت برائے اصلاح پر غور کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار جہلم پریس کلب کے صدر مہر محمد الیاس اور جنرل سیکرٹری الیاس صادق وٹو نے الیکٹرانک میڈیا کے وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رب کا ئنات نے تخلیق میں سب سے پہلے قلم کو بنایا اور اس میں بہت طاقت رکھی، صحافیوں کے پاس قلم اور کیمرے کا ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قلم اورکیمرے کی حرمت کا تقدس رکھنا آج کے دور میں انتہائی مشکل کام ہے، صحافی اپنی اس طاقت سے غلط اور صحیح کی پہچان رکھتے ہوئے ظالم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، بہت سے ادارے اپنے ملک و قوم کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو معاشرے کی ہر اچھائی اور برائی ہمیں د کھا تا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے پیشے کو ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں کیونکہ سب سے پہلے پاکستان۔
اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا کے صدر چوہدری عابد محمود جنرل سیکرٹری غلام قادر مخلص ،چیئرمین عامر کیانی ،سید ناصر محمود ،چوہدری تصور حسین ،راجہ شہریار علی ،چوہدری دانیال عابد ،عبدالباسط مجاہد شیخ عتیق الرحمان ،ڈیجیٹل میڈیا کے صدر انیس الرحمان بٹ ،جنرل سیکرٹری ادریس ،مرزا فاران بیگ ،راجہ عمیر احمد ،چوہدری عامر غفور طارق مجید کھوکھر عبدالرحمان قادری سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔


