پڑی درویزہ: طویل عرصہ اندھیروں میں گم رہنے والے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی پھر سے آباد ہونے کی توقع، دھرتی کا بیٹا دھرتی کو مل گیا، پروفیسر ڈاکٹر عزیر الرحمٰن نے گورنمنٹ ایسو سی ایٹ کالج پیر پھلاہی چکوال کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔ تین اضلاع کے سنگم کے گرد و نواح کی عوام کی امیدیں پھر سے جاگ اٹھیں، تیس سال سے اندھیروں میں ڈوبا کالج پھر سے روشن ہونے لگا۔
تفصیلات کے مطابق 1980ء کی دہائی میں ضلع جہلم اور چکوال کے درمیان قائم ہونے والا واحد گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج (موجودہ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ ڈگری کالج پیر پھلاہی چکوال) ابتدائی 10سالوں کے بعد سے سخت محرومیوں کا شکار تھا، محنت کش عوام سے محبت کرنے والا کوئی سربراہ میسر نہیں آرہا تھا۔
اب کم از کم 30سال کے طویل وقفے کے بعد نواحی علاقہ کولیاں شریف سے تعلق رکھنے والے اور اسی کالج سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے والے سابق طالب علم اور آج کے ماہر ریاضی پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن جو گزشتہ طویل عرصہ سے ایک بہترین استاد کی حیثیت تدریسی خدمات سر انجام دے رہے تھے آج 29نومبر 2024کو کالج ہذا کے باقاعدہ پرنسپل بن گئے۔
پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن کو کالج کا چارج ملنے پر علاقہ بھر کے عوام کو ایک بڑا پیغام ملا کہ اب دھرتی کا بیٹا ہی اپنی ماں دھرتی سے سچی محبت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کالج مذکور کی محرومیاں ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ۔ جہلم کی تحصیل سوہاوہ سے چکوال تک صرف ایک سرکاری ایسو سی ایٹ ڈگری کالج پھر سے 1990ء کی تاریخ کو دہرانے کی کوشش کریں گے ۔
سماجی و علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب علاقہ کے عوام کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے علم جو ایک نور ہوتا ہے اس نور کے تاجروں کی لوٹ سے اپنے ہونہار بچوں کا محفوظ کرتے ہوئے گورنمنٹ ایسو سی ایٹ ڈگری کالج پیر پھلاہی میں داخل کرنے چاہیے تا کہ یہ تاریخی سرکاری کالج اپنا کھویا مقام پھر سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ۔


