ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں پھر سے معمولی اضافہ ہوگیا، حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 05 فیصد اضافہ ہوا جبکہ حالیہ ہفتے سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 12 اعشاریہ 80 فیصد رہی، 22 ہزار تا 29 ہزار ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتہ میں روزمرہ استعمال کی 16 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور 9 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمتوں میں5 اعشاریہ 78 فیصد،پیاز کی قیمتوں میں5 اعشاریہ 49 فیصد،دال چنا کی قیمتوں میں 1 اعشاریہ 01فیصد،آلو کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 94 فیصد، گڑکی قیمتوں میں0 اعشاریہ 82 فیصد، آگ جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 64 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح تازہ کھلے دودھ کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 26 فیصد اور دہی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 32 فیصد اضافہ ہوا جب کہ دال ماش کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 80 فیصد،دال مونگ کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 35 فیصد، چینی کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 30 فیصد،کیلوں کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 27 فیصد، دال مسورکی قیمتوں میں0 اعشاریہ 93 فیصد جب کہ آٹے کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان کے علاوہ انڈوں کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 28 فیصد اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 08فیصداضافے کے ساتھ9 اعشاریہ 20فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 0 اعشاریہ 07فیصداضافے کے ساتھ13 اعشاریہ 22فیصد رہی ہے۔
22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 05فیصد اضافے کے ساتھ16 اعشاریہ 18فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 05 فیصداضافے کے ساتھ 13 اعشاریہ 14فیصد رہی جب کہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 04 فیصداضافے کے ساتھ 11 اعشاریہ 09فیصدرہی ہے۔


