مانچسٹر،اولڈھم: برطانیہ کے معروف سیاستدان جاوج گیلووے کو فلسطینیوں اور کشمیریوں کیلئے آوازاٹھانے کا پھل مل گیا،راچڈیل کی نشست پرضمنی انتخاب میں12ہزار335ووٹ کے کامیاب ہوگئے ،آزادامیدوار مقامی تاجر ڈیوڈ ٹولی دوسرے اور کنزرویٹوامیدوارتیسرے نمبر پر رہے۔ گیلووے نے کامیابی کے بعدوزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر پر تنقیدکی اورسامراجی جنگوں کے خاتمے کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کےعزم کااعادہ کیا۔دوسری جانب برطانیہ میں یہودیوں کی تنظیم نے بورڈ آف ڈیپٹیز نے کہاہے کہ آج ہمارے لئے سیاہ دن ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹونی لائیڈ کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی راچڈیل کی سیٹ پر ضمنی الیکشن میں کیمونٹیز نے انہیں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی دلا دی، جارج گیلووے ایک بھر پور انتخابی مہم کے نتیجے میں شاندار جیت کے ساتھ پارلیمنٹ واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے اپنی مہم کے دوران غزہ جنگ کو موضوع بنایا اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔
جارج گیلووے نے اپنی وکٹری سپیچ( فتح کی تقریر) میں برطانوی سیاستدانوں کیئر سٹارمر اوروزیراعظم رشی سوناک کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کیئر اسٹارمر یہ غزہ کیلئے ہے، آپ اپنے کردار کی بہت بڑی سیاسی قیمت ادا کرینگے جو آپ نے غزہ کی پٹی میں جاری تباہی کو فعال کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کیلئے ادا کیا ہے۔
جارج گیلووے نے ضمنی انتخابات میں 12ہزار 335ووٹ لیکر مثالی کامیابی سمیٹی ۔انہیں تقریباً 6ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی۔ مقامی تاجر ڈیوڈ ٹولی جو آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے، دوسرے نمبر پر رہے۔ کنزرویٹو امیدوار پال ایلیسن تیسرے نمبر پر رہے۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اس طرح دلچسپی نہیں دکھائی جو انہیں دکھانا چاہیے تھی۔ لیبر کے امیدوار اظہر علی، جنہیں اسرائیل کے بارے میں اشتعال انگیز تبصروں کے بعد پارٹی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑے، صرف 7.7فیصد کی شرح کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔
حالیہ انتخابات میں کنزرویٹو امیدوار پال ایلیسن 3,731 ووٹوں کے ساتھ تیسرے، لیبر پارٹی کے معطل امیدوار اظہر علی 2,402 ووٹوں کے ساتھ چوتھے اور لبرل ڈیموکریٹس کے آئن ڈونلڈسن 2,164 ووٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔ سابق ایم پی سائمن ڈانزوک 1,968 ووٹوں کے ساتھ چھٹے نمبر آئے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ جارج گیلووے 2003 تک لیبر کے ایم پی رہے، 2015 تک تین حلقوں سے کیمونٹی کی نمائندگی کی،گیلووے نے مشرق وسطیٰ سے متعلقہ اہم وجوہات کیلئے تحریک چلائی،جارج گیلووے نے فلسطینیوں کے حق کیلئے آوازاٹھائی اورمسلم کمیونٹی کے دلوں میں گھر کر گئے۔
وہ قبل ازیں مختلف ادوار میں بطور ممبر پارلیمنٹ انسانی حقوق کیلئے اپنے متحرک کردار کی وجہ سے ہمیشہ مقبولیت میں رہے ہیں، مختلف طبقات کی طرف سے جارج گیلووے کی کامیابی کوخوش آئند قرار دیا جا رہا ہے ۔ نو منتخب ارکان پارلیمنٹ جارج گیلووے نے کہا ہے کہ کہ وہ سامراجی جنگوں کے خاتمے اور نیٹو سے دستبرداری کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ، وہ کیراسٹارمر اور لیبر پارٹی کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں ۔
برطانوی یہودیوں کے بورڈ آف ڈیپٹیز نے مسٹر گیلووے کی فتح کو برطانیہ کی یہودی برادری کیلئے ایک سیاہ دن قرار دیا ۔ایم پی جارج گیلووے نے غزہ میں جنگ کے زیر اثر راچڈیل ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ بری شکست کے بعد کیئر اسٹارمر اپنے بدترین خواب سے جاگ چکے ہیں۔
برطانیہ کے نئے ورکرز پارٹی کے ایم پی نے کہا کہ ان کے پاس 59 پارلیمانی امیدوار عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے لئے تیار ہیں۔ادھر لیبر نے نتیجہ کے بعد راچڈیل میں ووٹروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اسے مناسب امیدوار کھڑا نہ کرنے پر گہرا افسوس ہے۔ لیبر پارٹی نے مسٹر گیلووے کو برادریوں اور عوامی زندگی میں نقصان پہنچانے والی قوت قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔


