جہلم: محکمہ صحت پنجاب نےنرسنگ تعلیم کی نئی پالیسی جاری کردی۔
جہلم: پنجاب حکومت نے سرکاری نرسنگ کالجز میں مفت نرسنگ تعلیم ختم کر دی ہے، جس کے بعد نرسنگ میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کو اب فیس، ہاسٹل واجبات اور دیگر اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت ادا کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب نے نرسنگ تعلیم سے متعلق نئی پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت نرسنگ طلبہ کو ہزاروں روپے فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرنا ہوگی، جبکہ سرکاری کالجز میں مفت نرسنگ تعلیم کی سہولت باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق صوبائی حکومت نے نرسنگ طلبہ کو دیے جانے والا ماہانہ وظیفہ بھی ختم کر دیا ہے، جبکہ سرکاری ہاسٹل میں رہائش اختیار کرنے والے طلبہ کو ہاسٹل فیس اور دیگر واجبات بھی ادا کرنا ہوں گے۔
پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 50 فیصد نمبرز حاصل کرنے والے امیدوار ہی نرسنگ میں داخلے کے اہل ہوں گے، جبکہ نرسنگ کالجز میں داخلے کے لیے پنجاب ڈومیسائل کی شرط بھی لازم قرار دی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ٹیچنگ ہسپتالوں سے منسلک نرسنگ کالجز میں مارننگ اور ایوننگ شفٹ کے لیے 100، 100 نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں سے منسلک نرسنگ کالجز میں دونوں شفٹوں کے لیے 50، 50 نشستیں مختص کر دی گئی ہیں۔
طلبہ اور والدین کی جانب سے نئی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پہلے سے مہنگی تعلیم کے ماحول میں نرسنگ کے شعبے میں داخلہ مزید مشکل ہو جائے گا، جس سے مستحق اور کم آمدنی والے طلبہ متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ پالیسی کا مقصد نرسنگ ایجوکیشن کا معیار بہتر بنانا اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔


