جہلم شہر اور گرد و نواح میں اشیائے خوردونوش کی مقررہ قیمتوں پر فراہمی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ روٹی، نان، دودھ، دہی، چاول، دالیں، سبزیاں، فروٹ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء من مانی اور خود ساختہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس پر شہری حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو کوسنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاجر تنظیموں، سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت کے اشتراک سے ماہانہ اجلاسوں میں اشیائے خوردونوش کی سرکاری قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔
مقررہ نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں تقریباً تین درجن پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پیرا فورس کو بھی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے اختیارات سونپے گئے ہیں، جنہیں روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں اور بازاروں کے دورے کر کے اشیاء کے معیار اور نرخ چیک کرنے، خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
تاہم ضلعی اور تحصیل انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم توجہی کے باعث شہر سمیت ضلع بھر میں روٹی، نان، دودھ، دہی، چاول، دالیں، سبزیاں، فروٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش کے دکانداروں نے من مرضی کے نرخ مقرر کر کے کھلی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاہی اور فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری زراعت سے فوری نوٹس لینے اور گراں فروشی میں ملوث دکانداروں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائیاں عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔


