گلاسگو: اسکاٹش کرکٹ بورڈ نے اپنے ایک ممبر کی طرف سے پاکستانیوں کیلئے لفظ پی(P) کےاستعمال پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
خضر علی جنہوں نے مئی 2023میں ایک علاقائی نمائندے کے طور پر گورننگ باڈی کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی تھی، ان کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے 2012 میں یہ ٹوئٹس کی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے بھارتیوں کے متعلق بھی توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔
خضر علی نے (پی) لفظ استعمال کرنے کی وجہ بتاتے اور معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر ان کا خیال تھا کہ یہ لفظ ایسے افراد کے خلاف دوبارہ دعوے کرنے اور ان کو احساس دلانے کا طریقہ تھا کہ وہ ان کے اور ان کی کمیونٹی کے خلاف جو گندی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔
علاوہ ازیں ان کی دیگر چند ٹوئٹس کو بھی سیاق و سباق سےالگ کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ کرکٹ اسکاٹ لینڈ کےبورڈ کو گزشتہ سال اس وقت مکمل طور پر تبدیل کردیا گیا تھا جب چند پاکستانی کھلاڑیوں ماجد حق اور قاسم شیخ وغیرہ نے بورڈ پر ادارتی نسل پرستی کے الزامات لگائے تھے۔
بعد ازاں ایک آزادانہ تحقیقات میں بورڈ کو واقعی ادارہ جاتی طور پر نسل پرستانہ رویئے کا حامل پایا گیا تھا۔ جائزہ رپورٹ میں 448ایسے واقعات پر روشنی ڈالی گئی تھی جس سے ادارہ جاتی نسل پرستی ظاہر ہوتی تھی۔
کرکٹ اسکاٹ لینڈ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم ادارے سے نسل پرستی کی کسی بھی قسم کے مکمل طور پر خاتمے کیلئے پوری طرح پُرعزم ہیں۔


