جہلم: ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور فلڈ ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کیمپ میں مقیم شہریوں سے ملاقات کرتے ہوئے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ضلعی انتظامیہ کو تمام متاثرہ افراد کو بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔
ڈپٹی کمشنر میثم عباس نے حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر ریسکیو اور محکمہ ہائی وے کے افسران نے نقصان کی تفصیلات اور بحالی کے جاری کام پر بریفنگ دی۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر نے موضع خورد کے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور کھانے پینے، رہائش اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور یقین دہانی کرائی کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن مکمل کر کے ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ محکمہ ہائی وے، صحت، زراعت، ریونیو، لائیو سٹاک، ریسکیو 1122 سمیت دیگر محکموں کے اہلکار بحالی کے عمل میں مصروف ہیں۔ داراپور کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے پل کی جگہ لوہے کا عارضی پل نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تحصیل جہلم اور پنڈ دادنخان کے شہریوں کی ضلعی ہیڈکوارٹر تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو سات روز میں متاثرہ علاقوں میں جانی، مالی، مویشیوں اور فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو دس لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی جبکہ زخمیوں کی بھی مالی معاونت کی جائے گی۔
تحصیل سوہاوہ کے کئی علاقوں میں چار روز گزرنے کے باوجود بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی، جس کے باعث شدید گرمی اور حبس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جلالپور شریف کے نالہ گھنڈر میں سیلابی ریلے کے باعث نالے کے کنارے موجود آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے، ایک محنت کش کا مکان بھی مکمل طور پر بہہ گیا۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


