دینہ: بلال اظہر کیانی نے کہا کہ میرا الیکشن لڑنے کا بنیادی مقصد اپنے ضلع کی تقدیر بدلناہے تھا۔ لوگوں کوواضح زندگی میں بہتری آنے کے لیے تحصیل دینہ ، تحصیل سوہاوہ ، ضلع جہلم کی سڑکوں کا نظام سیوریج سسٹم ، بجلی ہو یا گیس ، دینہ ٹی ایچ کیو ہسپتال کا معاملہ ہو چاہے جی ٹی روڈ کی مرمت ہو یا لاہور سیالکوٹ موٹروے کو جہلم دینہ سے گزارنے کا معاملہ ہو یہ سب چیزوں کے معاملات حل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی نے دینہ کے علاقہ پنڈوری میں راجہ افرا سیاب اور راجہ کامران سیاب کی طرف سے دیے گئے افطار ڈنر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بوجھ بھی محسوس کرتا ہوں جو ذمہ داری عوام نے مجھے دی انشاء اللہ جیت کے ساتھ کامیابی کا بھی سفر شروع ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ خود محسوس کریں گے کہ ہما را ضلع ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، میری پوری ٹیم انتظامیہ کے ساتھ متحرک ہے، الیکشن میں جو عوام سے وعدے کیے تھے اس کی مکمل فہرست میں انتظامیہ کو فراہم کر چکا ہوں۔ میں نے جہلم کے ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی جائزہ میٹنگ ڈی سی جہلم کے ساتھ کی ہیں جس میں ہر محکمے کے لوگ موجود تھے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ضلع جہلم میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے میں نے سارے کام ابھی سے ڈلوا دیے ہیں جو منصوبوںکی لسٹ پنجاب حکومت کو جانی تھی تاکہ کوئی منصوبہ رہ نہ جائے۔ عوام کو چاہئے جس شعبہ میں کام ہے اس کی شناخت کریں اور اس کا سروے کروائیں جو کام رہ گئے وہ انشاء اللہ اگلے سال مکمل ہوں گے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ گیس ایک دیرینہ مطالبہ ہے اور ملک کے لیے ایک چیلنج ہے، بدقسمتی سے پچھلے 4سالوں میں عمران خان کی حکومت رہی اور ایسی تباہی مچائی۔ عالمی سطح یوکرائن میں جنگ کے باعث گیس کا بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، ایل این جی بھی لینا بڑا مشکل ہو گیا تھا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ دینہ، جہلم اور سوہاوہ کے لوگوں کوسستی توانائی پر اپنا چولہا جلا سکیں، دینہ میں ٹی ایچ کیو ہسپتال کا نہ ہونا بڑی زیادتی ہے۔ میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے ساتھ میٹنگ یہی فیصلہ ہوا کہ پنجاب کے تمام ہسپتالوں کو بہتر کرنا ہے اس کے معیار کو بہتر اور اپ گریڈیشن کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی عمارتیں کھڑی کریں گے ، نئے ہسپتال بنائیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم کو بھی مزید بہتر کریں تاکہ مریضوں کو لاہور یا راولپنڈی نہ لے جانا پڑے، اگر پنجاب میں بہتری لا سکتے ہیں تو وزیر اعلی پنجاب مریم نواز ہی ہیں ۔


