پاکستان کی سیاست میں وقتاً فوقتاً ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو عوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیان نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں شریعت ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس تناظر میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر بھی الزامات عائد کیے۔ اس کالم میں ہم اس بیان کا مختلف پہلوؤں سے تجزیہ کریں گے کہ آیا یہ ایک سیاسی نعرہ ہے، سازش ہے یا محض بے بنیاد الزام؟
بشریٰ بی بی کا دعویٰ کہ سعودی عرب شریعت ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، پاکستانی عوام میں ایک نئی بحث کا باعث بنا ہے۔ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو اسلامی قوانین کی بنیاد پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور حرمین شریفین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں شریعت کے خاتمے کی بات ایک حساس موضوع بن جاتا ہے۔
بشریٰ بی بی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب تحریک انصاف شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی کو سیاسی طور پر خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے بیانات عوام کو مذہبی جذبات کے تحت تحریک دینے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا سکتے ہیں۔
سعودی عرب حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے تحت ملک کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا، تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور غیر اسلامی پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔
ان اصلاحات کو بعض حلقے "شریعت” سے دوری کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر ماہرین اسے سماجی اور اقتصادی ترقی کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے بیان کو ان اقدامات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، لیکن یہ کہنا کہ سعودی عرب مکمل طور پر شریعت ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایک غیر مستند اور مبالغہ آمیز دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔
بشریٰ بی بی کا یہ بیان بعض سیاسی مبصرین کے نزدیک ایک سازش کی بو دیتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم اتحادی ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب پر اس قسم کے الزامات لگانا دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دوسری جانب، اس بیان کو ایک سیاسی حکمت عملی بھی سمجھا جا سکتا ہے جس کا مقصد عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا اور تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا پاکستانی سیاست میں نیا نہیں ہے، اور یہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتا ہے۔
بشریٰ بی بی کے بیان پر عوامی ردعمل ملا جلا رہا ہے۔ کچھ افراد نے اس بیان کو حقائق کے برعکس اور تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ بیان سعودی عرب کی شبیہ کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں سعودی عرب کو ایک مضبوط اسلامی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بشریٰ بی بی کا سعودی عرب پر شریعت ختم کرنے کا الزام ایک حساس اور نازک مسئلہ ہے جسے سیاسی نعرے یا سازش کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب کی حالیہ اصلاحات کو مکمل طور پر شریعت کے خاتمے سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے بیانات کو مذہبی اور سیاسی جذبات سے ہٹ کر عقل و شعور کی نظر سے دیکھیں۔ دوسری طرف، سیاسی رہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔


