Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: بشریٰ بی بی کا سعودی عرب پر شریعت ختم کرنے کا الزام؛ سیاسی نعرہ یا سازش؟
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

بشریٰ بی بی کا سعودی عرب پر شریعت ختم کرنے کا الزام؛ سیاسی نعرہ یا سازش؟

محمد امجد بٹ
محمد امجد بٹ
22 نومبر, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

پاکستان کی سیاست میں وقتاً فوقتاً ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو عوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیان نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں شریعت ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس تناظر میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر بھی الزامات عائد کیے۔ اس کالم میں ہم اس بیان کا مختلف پہلوؤں سے تجزیہ کریں گے کہ آیا یہ ایک سیاسی نعرہ ہے، سازش ہے یا محض بے بنیاد الزام؟

بشریٰ بی بی کا دعویٰ کہ سعودی عرب شریعت ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، پاکستانی عوام میں ایک نئی بحث کا باعث بنا ہے۔ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو اسلامی قوانین کی بنیاد پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور حرمین شریفین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں شریعت کے خاتمے کی بات ایک حساس موضوع بن جاتا ہے۔

بشریٰ بی بی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب تحریک انصاف شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی کو سیاسی طور پر خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے بیانات عوام کو مذہبی جذبات کے تحت تحریک دینے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا سکتے ہیں۔

سعودی عرب حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے تحت ملک کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا، تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور غیر اسلامی پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔

ان اصلاحات کو بعض حلقے "شریعت” سے دوری کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر ماہرین اسے سماجی اور اقتصادی ترقی کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے بیان کو ان اقدامات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، لیکن یہ کہنا کہ سعودی عرب مکمل طور پر شریعت ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایک غیر مستند اور مبالغہ آمیز دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔

بشریٰ بی بی کا یہ بیان بعض سیاسی مبصرین کے نزدیک ایک سازش کی بو دیتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم اتحادی ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب پر اس قسم کے الزامات لگانا دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دوسری جانب، اس بیان کو ایک سیاسی حکمت عملی بھی سمجھا جا سکتا ہے جس کا مقصد عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا اور تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا پاکستانی سیاست میں نیا نہیں ہے، اور یہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتا ہے۔

بشریٰ بی بی کے بیان پر عوامی ردعمل ملا جلا رہا ہے۔ کچھ افراد نے اس بیان کو حقائق کے برعکس اور تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ بیان سعودی عرب کی شبیہ کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں سعودی عرب کو ایک مضبوط اسلامی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بشریٰ بی بی کا سعودی عرب پر شریعت ختم کرنے کا الزام ایک حساس اور نازک مسئلہ ہے جسے سیاسی نعرے یا سازش کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب کی حالیہ اصلاحات کو مکمل طور پر شریعت کے خاتمے سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے بیانات کو مذہبی اور سیاسی جذبات سے ہٹ کر عقل و شعور کی نظر سے دیکھیں۔ دوسری طرف، سیاسی رہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
75%
2 km/h
پیر
39 °C
منگل
37 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
36 °C
جمعہ
33 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

ولادت باسعادت اور بعثت رحمت عالم ﷺ

2 مارچ, 2025

جہلم کا سیاسی معرکہ؛ ن لیگ کے چار دھڑے اور پی ٹی آئی کا ابھرتا دباؤ

21 اکتوبر, 2025

خراج تحسین / داد تحسین!

4 دسمبر, 2023

میرا خلیل نہ رہا

21 جنوری, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں