سوہاوہ: تحصیل پریس کلب سوہاوہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ سمینہ بشیر سے ان کے دفتر میں تفصیلی اور تعارفی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تحصیل سوہاوہ کے عوام کو درپیش مختلف مسائل، بنیادی سہولیات کی فراہمی، انتظامی امور اور صحافتی معاملات سمیت علاقے کے اہم مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں تحصیل پریس کلب سوہاوہ کے چیئرمین احسن وحید، صدر شیخ انیس، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر امتیاز چوہدری، لیگل ایڈوائزر چوہدری زبیر ایڈووکیٹ، یاسر فہمید، ملک وحید، انیل اصغر سمیت پریس کلب کے دیگر نمائندگان اور صحافیوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پریس کلب کے لیگل ایڈوائزر چوہدری زبیر ایڈووکیٹ اور چیئرمین احسن وحید نے اسسٹنٹ کمشنر سمینہ بشیر کو سوہاوہ شہر اور گردونواح میں درپیش مختلف انتظامی مسائل، عوامی مشکلات اور جاری و التوا کا شکار ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفد نے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل اور شہریوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامیہ کی توجہ بھی مبذول کرائی۔
اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ سمینہ بشیر نے تحصیل پریس کلب سوہاوہ کے تنظیمی ڈھانچے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ پریس کلب کی ٹیم میں پوری تحصیل کی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ڈومیلی سے صدر شیخ انیس، ڈھوک امب سے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر امتیاز چوہدری سمیت تحصیل کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فعال صحافیوں کی موجودگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پریس کلب کے صحافیوں کا یہ وسیع نیٹ ورک عوامی مسائل اور ان کی آواز کو متعلقہ حکام اور ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ میڈیا اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر سمینہ بشیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ میڈیا کے ساتھ مکمل کوآرڈینیشن برقرار رکھے گی اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اختیارات کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے سوہاوہ کے مسائل کے حل کے لیے تمام تر صلاحیتیں استعمال کریں گی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ علاقے کی بہتری، عوامی فلاح و بہبود اور انتظامیہ و میڈیا کے درمیان مثبت اور مؤثر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔


