جہلم کے علاقے محلہ چشتیاں میں گندگی کے ڈھیر، بند نالیاں اور کھڑا سیوریج کا پانی شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گیا ہے، جس سے پنجاب حکومت کے "صاف ستھرا پنجاب” کے دعوے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
محلے کی گلیوں میں جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے انبار لگے ہوئے ہیں جبکہ نالیاں اور نالے بند ہونے کے باعث سیوریج کا پانی سڑکوں پر جمع ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ماحول کو آلودہ کر دیا ہے بلکہ شہریوں کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ بزرگ، خواتین اور بچے روزمرہ کے معمولات کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اہلِ علاقہ کے مطابق متعدد بار متعلقہ اداروں کو شکایات درج کروائی گئیں مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (RWMC) کا کہنا ہے کہ آگے سے نالہ بند ہونے کی وجہ سے پانی کی نکاسی ممکن نہیں، جبکہ واسا حکام کی خاموشی نے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اداروں کے درمیان ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ عوام کو اس بات سے غرض نہیں کہ مسئلہ کس ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، انہیں صرف صاف ستھرا ماحول اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔
گندگی اور کھڑے پانی کے باعث ڈینگی، ملیریا اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جو کسی بڑے صحت کے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت فوری نوٹس لے اور واسا و ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت نالوں کی صفائی، سیوریج نظام کی بحالی اور کچرے کی بروقت تلفی یقینی بنانے کے احکامات جاری کرے تاکہ اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔


