جہلم اور گردونواح میں محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی کارکردگی پر عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ضلع بھر میں سینکڑوں محنت کش مزدور تاحال رجسٹریشن سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ مہنگائی کے اس کٹھن دور میں بھی 15 سے 20 ہزار روپے ماہوار تنخواہ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے نجی کارخانوں، کاروباری مراکز، بھٹہ خشت، نجی اسکولوں اور اسپتالوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کا استحصال دیدہ دلیری سے جاری ہے۔ ان اداروں میں کام کرنے والے اکثر مزدوروں کی محکمہ لیبر میں رجسٹریشن ہی نہیں کروائی گئی، جب کہ جن اداروں کی رجسٹریشن موجود ہے، وہ بھی صرف رسمی کارروائی اور دکھاوے تک محدود ہے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے محنت کشوں کے لیے 26 ایام کی کم از کم 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اکثر مزدور اب بھی معمولی تنخواہوں اور طویل اوقاتِ کار کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ چار سرکاری چھٹیوں کی سہولت بھی اکثر جگہوں پر فراہم نہیں کی جا رہی۔
شہری و سماجی تنظیموں کے نمائندگان اور عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لیبر، ایڈوائزر برائے لیبر اور صوبائی محتسب پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو ان کا حق دیا جائے۔


