جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کا ایک خصوصی اجلاس مولانا ذیشان اسحٰق کی زیر صدارت جہلم شہر میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم اور مختلف تحصیلوں کے صدور و عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس میں مقدس شخصیات کی توہین، سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں شریک علماء کرام نے کہا کہ مقدس شخصیات کی توہین کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ، توہین آمیز اور گستاخانہ مواد بدستور پھیلایا جا رہا ہے جو مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت اور معاشرتی انتشار کا باعث بن رہا ہے۔ ایسے مواد کی تشہیر سے بین المسالک کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے متنازع اور نفرت انگیز مواد کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر نگرانی اور کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔
علماء کرام نے کہا کہ اگر کوئی فرد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ اور اسلافؒ کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع، تقسیم یا سوشل میڈیا پر پھیلاتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ ہمارے ایمان اور عقیدے کا اہم حصہ ہیں اور مقدس شخصیات کی توہین کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات میں کارروائی قانون اور ریاستی اداروں کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی رواداری کو برقرار رکھا جا سکے۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے صدر حکیم قاری شبیر احمد عثمانی نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو لازوال اور قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ملک دشمن عناصر کی گھناؤنی کارروائیاں قرار دیا۔
اجلاس میں علماء کرام نے مدینہ منورہ پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری امت متحد ہے۔ انہوں نے حرمین شریفین کے تحفظ اور امن و سلامتی کے لیے دعا بھی کی۔
اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ علماء کرام نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت اور کامیابی ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکراتی عمل کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
اجلاس میں مولانا قاری اشرف، مولانا انس الرحمن، مولانا محمد مدثر، قاری عاصم عرفان، قاری محمد آصف، مولانا قاری زبیر الحسن، مولانا محمد عثمان، مولانا ذیشان اسحٰق، ایڈووکیٹ عبدالرزاق شمیم اور قاری محمد ابراہیم منیر سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔


