پنڈدادنخان: سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے حکومت پنجاب کی جانب سے للہ تا جی ٹی روڈ دو رویہ سڑک کی تعمیر روکنے پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے ساری سڑک توڑ دی ہے اور اس منصوبے پر سات ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ منصوبے کا کل تخمینہ 16 بلین روپے تھا اور اس کا افتتاح سابق وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا، مگر صرف اس لیے اس کو روکا گیا کہ یہ تحریک انصاف اور میرا منصوبہ تھا۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل 2024 تک ہونا تھی، مگر ایک ضد کی وجہ سے یہ منصوبہ روک دیا گیا، جس کی وجہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئیں۔ شہریوں کے لیے اپنے کام کاج، سکولز، اور ہسپتالوں میں جانا بھی مشکل ہو چکا ہے اور دوسرے شہروں کا سفر بھی دشوار ہو گیا ہے۔
انہوں نے حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی چھوٹی سوچ کے ساتھ ملک کیسے چلایا جا سکتا ہے؟
فواد چوہدری نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور رکے ہوئے فنڈز جاری کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کا موڈ خراب ہے تو اس کا مطلب نہیں کہ وہ منصوبے کو روک دیں، اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اسے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت نے فنڈز کے اجراء کا اعلان کیا تھا، مگر ابھی تک فنڈز جاری نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سارا علاقہ پاک فوج کے زیر انتظام ہے اور یہ دیکھیں کہ کس طرح علاقے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ سڑک کی تعمیر ایک ہزار دن سے تاخیر کا شکار ہے، اور اس کو روکنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ منصوبہ عمران خان اور ان کا تھا۔

