جہلم: عید کی آمد کے ساتھ ہی جیب کتروں اور بھکاریوں کی بھر مار ، شہر کے مصروف بازاروں اور سڑکوں پر بھکاریوں کی یلغار ہے۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مرد ، و خواتین ،بچوں اور بوڑھوں نے شہر سمیت ضلع بھر میں ذمہ داریاں سنبھال لیں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے چھوٹ ۔ خریداری کیلئے آنے والی خواتین کو بھکاریوں نے تنگ کرنا وطیرہ بنا لیا۔
پیشہ ور بھکاریوں کے جتھے بازاروں ،مارکیٹوں ، سڑکوں ، چوک چوراہوں میں دندناتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ گلی محلوں میں بھی دن رات دروازے کھٹکھٹا کر بھیک اس طرح مانگتے ہیں جیسے ادھا دیا ہو ا ہو ، بھکار نیں شہریوں کا اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتیں جب تک ان کو کچھ دے نہ دیا جائے۔
بھکاریوں کے روپ میں کئی جرائم پیشہ افراد بھی چوری چکاری اور راہزنی کی وارداتیں کررہے ہیں جبکہ رش کے اوقات میں جیب تراشوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔
جیب تراشوں کے ہاتھوں متعدد خواتین اپنی پونجی گنوا بیٹھتی ہیں، جیب کتروں میں بڑی تعداد خواتین کی شامل ہے جو بازاروں میں گھوم پھر کر وارداتیں کرتی ہیں جبکہ ان دنوں چنگ چی رکشوں میں جیب کتروں کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔
عوامی حلقوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے گدا گری ایکٹ کے مطابق شہر میں موجود گدا گروں کو پابند سلاسل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں ۔


