امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ ایک باعمل مسلمان ختم نبوت کی بہت بڑی شہادت ہوتا ہے اور دنیا اس کے کردار کو رد نہیں کر سکتی۔
جمعۃ المبارک کے موقع پر امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ قول و فعل کا تضاد ہے۔ ہم ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ہماری معیشت سود جیسے حرام نظام پر قائم ہے۔ اگر ہم عملی طور پر قرآن و سنت پر عمل کریں تو دنیا کو اسلام کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہمارا کردار خود بہترین تبلیغ بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں بھی خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں، حالانکہ ہمیں اپنی عقل و خواہشات کو دین کے تابع کرنا چاہیے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ خانقاہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف راغب کریں اور انہیں سنت نبوی ﷺ کے مطابق تربیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ نفس کی خواہشات انسان کے لیے بڑا امتحان ہیں اور دین کے مقابل اپنی سوچ کو ترجیح دینا قلوب کی بیماری کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے اور ذکر قلبی کے بغیر دلوں کی اصلاح ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے بتایا کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 2 اور 3 مئی کو دو روزہ روحانی اجتماع منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے افراد شرکت کریں گے، جبکہ اتوار کو خصوصی خطاب اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔ عوام الناس کو اس بابرکت اجتماع میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔


