ایم پی اے سید رفعت محمود زیدی کی پنجاب اسمبلی کے فلور پر حلقے کے مسائل پر اٹھنے ہونے والی آواز اور اسمبلی میں کئے گئے سوالات کا اثر ہونا شروع ہوگیا جبکہ دوسری طرف دینہ اور سوہاوہ میں سوئی گیس لگوانے کا وعدہ کرنے والے وزیر اعلی پنجاب کے خاندان کے کچن کیبنٹ کے ساتھی بلال اظہر کیانی کی ٹیم حکومت پنجاب کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا کریڈٹ بلال اظہر کیانی کو دینے لگے۔
گزشتہ دنوں سید رفعت محمود زیدی نے دینہ ہسپتال (رورل ہیلتھ سنٹر دینہ)کا دورہ کیا اور وہاں سہولیات کے فقدان پر ویڈیو بنائی جسے فوری طور پر نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا بلکہ ایم پی اے کو ملنے والی فون لسٹ جس میں چیف سیکرٹری سمیت پنجاب کے تمام محکموں کے سربراہان سیکرٹری ڈپٹی سیکرٹری اور سینئر افسران نام نمبر موجود ہوتے ہیں ان میں سے متعلقہ ذمہ داران کو واٹس ایپ کی۔
دوسری طرف بلال اظہر کیانی کے قریبی حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے وفاقی حکومت کے ممبر کو پنجاب حکومت کے اقدامات کا کریڈٹ دینے میں مصروف ہیں۔ رورل ہیلتھ سنٹر دینہ میں چار ڈاکٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا ہے اب کریڈٹ جس کا بھی ہو فائدہ مریضوں کا ہی ہونا ہے۔
تھوڑا ماضی میں جھانکیں تو اپنے ہمسایہ شہر گوجرخان میں راجہ پرویز اشرف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے اگلے الیکشن میں ہونے والی شکست کی وجوہات کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بھائی کی سیاست راجہ پرویز اشرف کی شکست کا باعث بنی، ورنہ گوجرخان بھرمیں جتنے ترقیاتی کام راجہ پرویز اشرف نے کروائے اتنے شاہد ہی ہوئے ہوں۔
کیونکہ بلال اظہر کیانی نوجوان سیاستدان ہیں اور سیاست کے آغاز سے ہی مین سٹریم میڈیا میں موجود ہیں جس وجہ سے انہوں نے مقامی میڈیا کو یکسر اگنور کر رکھا ہے اور ان کی ٹیم کو بھی شاہد یہی لگتا ہے کہ ضلع جہلم میں بلال اظہر کیانی کی سیاست کو مقامی صحافیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ وہ نیشنل میڈیا پر نظر آتے ہیں ۔
بہرحال بلال اظہر کیانی کو اللہ تعالیٰ کی ذات نے عزت سے نوازا ہے لیکن ان کی مقامی سیاست میں ان کی حکمت عملی سفارشی کھلاڑی کی طرح ظاہر ہو رہی ہے جو ٹیم کا حصہ تو بن گیا لیکن کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو رہا ہے اور ٹی 20 میں ٹیسٹ کی طرح وکٹ پر موجود ہیں ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ جیسے ان کا طرز سیاست ہے شاہد ویسے ہی ان کی سیاسی ٹیم بھی سیاست کے میدان میں کامیاب ہو گی۔
سیاسی میدان میں اتار چڑھاؤ جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں، بلال اظہر کیانی جیسے نوجواں سیاستدان سے عوام نے بڑی امیدیں لگا رکھی ہیں، ماضی قریب میں اگر سیاستدانوں کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہر سیاست دان آخری سال میں اپنے حلقے کےترقیاتی کاموں کا آغاز کرتا نظر آیا ہے لیکن اب حکومت کتنے سال نکالے گی اس کا کسی کو کچھ علم نہیں ۔
موجودہ حکومت پانچ سال پورے کر گئی اور بلال اظہر کیانی پہلے سال کے بجٹ کے بعد سے اپنے حلقے کے لیے ہر بجٹ میں فنڈ لے پائے تو ان کے اگلے انتخاب میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلال اظہر کیانی، راجہ اویس خالد کو پی پی 24 کے اختیارات دے چکے ہیں لیکن سوہاوہ میں نظر آنے والے سیاسی مداریوں میں آئندہ کون کتنا شاطر کھلاڑی بنتا ہے یہ مستقبل قریب میں واضح ہو جائے گا۔
کیونکہ کپتان تو اویس خالد کو بنایا گیا ہے لیکن ٹیم میں موجودہ گروپ بندی ٹیم کو یکجا نہیں ہونے دے رہی، اویس خالد تاحال تو ذاتی مصروفیات کی وجہ سے میدان میں موجود نہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلال اظہر کیانی کی ٹیم میں موجود اویس خالد کے مخلص دوست اور اویس خالد کی تبدیل ہوتی ٹیم میں نوجوان کیا سیاسی تبدیلی دکھاتے ہیں۔
ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ ڈپٹی کمشنر جہلم سمیت حلقے میں تبادلے کروانے میں بلال اظہر کیانی اور ان کی ٹیم کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔ 29 اپریل سے کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق ڈپٹی کمشنر جہلم کورس پر جا رہے ہیں جس وجہ سے ان کی جگہ نئے ڈپٹی کمشنر آ رہے ہیں، یہ بلال اظہر کیانی کی مرضی سے آئے گا یا ان کو لانے والوں کی مرضی سے۔
تاحال بلال اظہر کیانی کی ٹیم کو آئندہ ڈپٹی کمشنر کا نام معلوم نہ ہونے سے تو بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ آئندہ آنے والے ڈپٹی کمشنر غیر سیاسی کہلوانے والوں کی مرضی سے آئے گا۔ مریم نواز شریف کے قریبی ساتھی کہلوانے والے بلال اظہر کیانی کے لیے ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اپنے ضلع میں اپنی مرضی سے لگوانا کوئی مشکل کام نہیں لیکن بلال اظہر کیانی ابھی آغاز میں اس طرح کی سیاست کرنے نظر نہیں آئیں گے۔ البتہ جہلم میں آنے والے ڈپٹی کمشنر ملنے والی ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ بلال اظہر کیانی کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے۔
سید رفعت محمود زیدی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں اٹھائے گئے سوالات پر ایکشن ہو رہا ہے یا بلال اظہر کیانی کی اپروچ سے یہ بات تو تاحال قبل از وقت ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اس بار حلقہ پی پی 24 کی ترجمانی کے لیے اپوزیشن تگڑی ہوتی نظر آئے گی اور وفاق میں این اے 60 کی نمائندگی واضح دکھائی دے گی۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی کچن کیبنٹ الگ الگ دکھائی دینے سے بلال اظہر کیانی وفاق کی بجائے پنجاب میں زیادہ اثر رسوخ کے حامل ایم این اے ہونگے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سوہاوہ کی عوام کے حقیقی مسائل کون حل کرتا ہے، بلال اظہر کیانی سوئی گیس سمیت بڑے پروجیکٹ لانے میں کامیاب تو ہونگے لیکن کب؟ یہ ابھی کچھ طے نہیں۔ البتہ پنجاب میں سید رفعت موجود زیدی کی حلقے کی ترجمانی اور سوالات کو بلال اظہر کیانی کیش کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، اگر ان کی ٹیم اور ان کو مقامی صحافیوں کی افادیت سمجھ آ گئی تو۔
دعا ہے اللہ پاک ہمارے ملک پاکستان کی خیر فرمائے۔ آمین


