جہلم شہر اور گردونواح میں نوجوانوں کے ساتھ کمسن بچے بھی نسوار کے نشے کی لت میں مبتلا ہونے لگے۔ شہر بھر میںیہ زہر نسوار کے نام سے فروخت ہو رہا ہے جس سے متعدد بچے اور نوجوان موذی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
عوامی، سماجی، رفاحی، فلاحی اور مذہبی تنظیموں کے عمائدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نسوارکا نشہ نوجوان نسل میں تیزی سے پھیلنے لگا ہے، اب تو کمسن بچے بھی اس لت میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ نسوار سے موذی بیماریاں منہ کا کینسر وغیرہ پھیلنے سمیت معدے کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔نوجوان ان بیماریوں کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی ، آئی جی پنجاب، کمشنر راولپنڈی،ڈپٹی کمشنر جہلم سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام سے کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کمسن بچوں کو نسوار بیڑا سیگریٹ ، گٹکا وغیرہ فروخت کرنے والے دکانداروں پر پابندی عائد کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تاکہ معصوم بچوں کو نشے جیسی لعنت سے محفوظ بنایا جا سکے۔


