جہلم میں محکمہ سول ڈیفنس انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث ضلع بھر میں غیر قانونی منی پیٹرول پمپس اور گیس ری فلنگ کا خطرناک دھندہ تاحال ختم نہ ہو سکا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں قائم منی پیٹرول پمپس کے مالکان شہریوں سے سرکاری مقررہ نرخوں سے زائد رقم وصول کر رہے ہیں جبکہ پیمانوں میں ہیر پھیر کی شکایات بھی عام ہیں۔ گنجان آباد علاقوں میں کھلے عام منی پیٹرول پمپس اور ایل پی جی گیس ری فلنگ کا کاروبار تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جو کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان غیر معیاری منی پیٹرول پمپس سے پٹرول ڈلوانے کے بعد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خراب ہو رہی ہیں، جس سے انہیں اضافی مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں غیر قانونی طور پر گیس ری فلنگ کا دھندہ بھی جاری ہے، جو حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کے مطابق سول ڈیفنس کے ذمہ داران بارہا شکایات کے باوجود ان غیر قانونی کاروباروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں، جس سے محکمے کی کارکردگی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
شہری حلقوں نے مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر قانونی منی پیٹرول پمپس اور گیس ری فلنگ مراکز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ کسی بڑے سانحے سے قبل شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


