باولے کتے کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی بیماری قابل علاج ہے۔ انوشہ نوید، اقصیٰ

جہلم: ریبیزایک قابل علاج بیماری ہے جواکثر پاگل جانوروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اپنی آبادیوں میں آوارہ جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کی حمایت کریں۔

ان خیالات کا اظہار کیپٹل یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبات انوشہ نویداور اقصیٰ نے جانوورں کے کاٹنے اور ان کی عدم برداشت کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کیا جس کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریبیروائرس ممالیہ جانوروں کے مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتاہے، بالآخر دماغ میں بیماری اور موت کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام کیریئر میں کتے، چمگادڑ، ریکون اور لومڑی شامل ہیں ریبیروائرس کی وجہ سے جس کا تعلق Lyssav genus سے ہے۔ٹرانسمیشن کا بنیادی طریقہ متاثرہ جانور کے تھوک کے ذریعے ہوتاہے۔عام طور پر جانوروں کے کاٹنے کے ذریعے ریبیزکی پہلی علامات فلو جیسی ہو سکتی ہیں۔بشمول کمزوری یا متاثرہ جگہ پرتکلیف اور بخار ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ پالتو جانوروں کو ریبیرسے بچاؤ کے ٹیکے لگوائے جائیں۔پالتو جانوروں کو گھر کے اندر رکھیں یا ممکنہ طور پر پاگل جانوروں سے رابطے کو روکنے کے لیے انکی نگرانی کریں۔اپنے علاقوں میں آوارہ جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کریں اگر کوئی پالتو جانور کاٹتا ہے یا غیر معمولی رویہ دکھاتاہے تو فوری طور پر وٹنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button